خیبرپختونخوا: حکومت سے مذاکرات کامیاب، ڈاکٹروں کی ہڑتال ختم

ای میل

سراپااحتجاج ڈاکٹروں کا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا—فوٹو: سراج
سراپااحتجاج ڈاکٹروں کا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا—فوٹو: سراج

خیبرپختونخوا میں صوبائی وزیر صحت اور ڈاکٹر کے مابین جھگڑے کے بعد سراپا احتجاج ڈاکٹروں نے حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد صوبے بھر میں ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

خیبرپختونخوا ڈاکٹرز کونسل (کے پی ڈی سی) اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) کے رکن رضوان کنڈی نے بتایا کہ دونوں فریقین کے مابین مذاکرات کامیاب رہے جس کے بعد ڈاکٹروں نے کئی روز سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرصحت کےخلاف مقدمہ درج ہونے تک خیبرپختونخوا کے ڈاکٹرز کا ہڑتال کا اعلان

خیال رہے کہ 16 مئی کو کے پی ڈی سی نے سرجیکل وارڈ میں اسسٹنٹ پروفیسر کو مبینہ طور پر زد و کوب کرنے والے صوبائی وزیر صحت اور ان کے سیکیورٹی گارڈز کے خلاف مقدمہ درج نہ کیے جانے پر صوبے بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور نجی کلینک پر ہڑتال کا اعلان کردیا تھا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیموں اور حکومت کے مابین کامیاب مذاکرات کی صوبائی انتظامیہ نے تصدیق کی اور کہا کہ طے شدہ معاہدے کی رو سے دو کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ’پہلی کمیٹی حکومت اور ڈاکٹروں پر مشتمل ہوگی جو ریجنل ہیلتھ اتھارٹی (آر ایچ اے) اور ضلعی ہیلتھ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں مجوزہ اصلاحات کے امور دیکھے گی۔

صوبائی حکام کا کہنا تھا کہ دو سری کمیٹی کمشنر پشاور کی سربراہی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور صوبائی وزیر صحت کے مابین ہونے والے ناشگوار واقعہ کی انکوائری کرکے حقائق سامنے لائیں گی۔

مزیدپڑھیں: خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں اور نجی کلینکس میں دوسرے روز بھی ہڑتال

واضح رہے کہ صوبائی ڈاکٹرز کونسل کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومتی ڈاکٹر ونگ کے جواد واصف اور امریکی شہری نوشیروان برقی کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور ان کوعہدوں سے ہٹایا جائے۔

حالیہ پیش رفت کے تناظر میں ایف آئی آر اور مذکورہ افراد کو عہدوں سے ہٹانے کا کوئی بھی مطالبہ پورا نہیں ہوا۔

صوبائی وزیر ڈاکٹر حشام انعام نے واقعہ کے بعد پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ڈاکٹر نوشیروان برکی سے ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کے طرز عمل کی معافی مانگنے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب، خیبرپختونخوا میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج، مریضوں کو مشکلات کا سامنا

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ’ڈاکٹر ضیاالدین کے ہاتھ میں تیز دھار والا کوئی آلہ تھا جس کے بعد ان کے گارڈز نے کے ٹی ایچ کے اسسٹنٹ پروفیسر کو روکا اور زد و کوب کیا۔

دوسری جانب ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی نے موقف اختیار کیا تھا کہ صوبائی وزیر صحت نے ان سے بدزبانی کی اور اپنے گارڈز کو زدوکوب کرنے کا حکم دیا۔