عرب ممالک میں حملوں کے پیچھے ایران ہوسکتا ہے، مائیک پومپیو

اپ ڈیٹ 22 مئ 2019

ای میل

ہم ایسے اقدامات اٹھاتے رہیں گے جو امریکی مفادات کا تحفظ کریں—فائل فوٹو: اے پی
ہم ایسے اقدامات اٹھاتے رہیں گے جو امریکی مفادات کا تحفظ کریں—فائل فوٹو: اے پی

واشنگٹن: امریکی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ خلیج میں تیل کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے پیچھے ’ممکنہ طور پر‘ ایران ذمہ دار ہے لیکن بھرپور ردِ عمل سے امریکیوں پر متوقع طور پر ہونے والے حملوں کو روک دیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکرز پر تخریب کاری کی کارروائیوں اور سعودی عرب میں خام تیل کی پائپ لائن پر ہونے والے ڈرون حملوں پر امریکا نے ابھی تک کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا۔

کانگریس اجلاس میں شرکت سے قبل قدامت پسند ریڈیو میزبان ہگ ہیوٹی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’ان حملوں کے طریقہ کار اور گزشتہ ایک دہائی کے عرصے میں ہونے والے حملوں پر اگر نظر ڈالی جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر ان کے پیچھے ایران تھا‘۔

یہ بھی پڑھیں؛ ایران کی امریکا سمیت ہر کسی کو ’دردناک نتائج‘ کی دھکمی

مائیک پومپیو کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایسے اقدامات اٹھاتے رہیں گے جو امریکی مفادات کا تحفظ اور خطے میں ایران کو غلط طرزِ عمل اختیار کرنے سے روکیں گے۔

یمن کے حوثی باغیوں، جو ایران کے اتحادی ہیں اور امریکی فضائی حملوں کے نشانے پر ہیں، نے گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں بڑی پائپ لائن پر ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس کے بعد اسے عارضی طور پر بند کردیا گیا تھا۔

دوسری جانب امریکا کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے امریکی مفادات پر حملہ کیا تو ’بھرپور قوت سے جواب دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ’معاشی دہشت گردی اور قتل و غارت کی دھمکیوں سے ایران کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا‘

علاوہ ازیں قائم مقام سیکریٹری دفاع پیٹرک شناہن جنہوں نے اراکین اسمبلی کے ساتھ ساتھ امریکی ملٹری چیف جنرل جوزف ڈنفورڈ کو بریفنگ دی تھی، کا کہنا تھا کہ امریکا کے ردِ عمل سے اثر تو ہوا ہے لیکن خطرہ برقرار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ہمارے اقدامات بہت محتاط تھے اور ہم نے امریکیوں پر ہونے والے ممکنہ حملوں کو روک دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں یہ کہوں گا کہ ہم ایسے دور میں ہیں جہاں زیادہ خطرہ رہے گا اور ہمارا کام ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایران کی جانب سے کوئی غلطی نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی، خلیج فارس میں امریکی افواج کی مشقیں

خیال رہے کہ گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کرلی تھی جس میں دیگر ممالک بھی شامل تھے اور اس کے تحت ایران پر پابندیوں سے استثنیٰ ملنے پر جوہری پروگرام روکنے کا وعدہ کیا تھا۔