بھارت: اپوزیشن جماعتیں ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کی رپورٹس سے پریشان

22 مئ 2019

ای میل

بھارتی ریاست آسام میں ایک شخص ووٹ دینے سے قبل اپنی انگلی پر نہ مٹنے والی سیاہی کا نشان لگواتے پوئے—فائل فوٹو: رائٹرز
بھارتی ریاست آسام میں ایک شخص ووٹ دینے سے قبل اپنی انگلی پر نہ مٹنے والی سیاہی کا نشان لگواتے پوئے—فائل فوٹو: رائٹرز

بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں انتخابی مشینوں کی تبدیلی اور دھاندلی کی اطلاعات پر الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ الیکٹرونگ ووٹنگ مشینز (ای وی ایم) کے نتائج سے پہلے ان سے منسلک پیپر ٹریل کی گنتی کریں۔

ایک بھارتی جریدے فرنٹ لائن میگزین کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’جاننے کا حق‘ رائٹ تو انفارمیشن کے رضاکار نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ الیکٹرونک مشینیں بنانے والوں اور الیکشن کمیشن کے درمیان سے 20 لاکھ ووٹنگ مشینز غائب ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سابق بھارتی صدر پرناب مکھرجی نے ووٹرز کی رائے میں چھیڑ خانی کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی ساکھ کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ہے، جسے تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: ’مودی کو دوبارہ اقتدار ملا تو مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہوں گے‘

دریں اثنا الیکٹرونک ووٹنگ مشینز کی مبینہ نقل و حرکت اور اس میں چھیڑ چھاڑ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اترپردیش میں کچھ مقامات پر مظاہرے شروع ہوگئے تھے تاہم الیکشن کمیشن نے اس الزام کو غیر سنجیدہ قرار دے کر مسترد کردیا۔

دوسری جانب انڈین نیشنل کانگریس کا بھی کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن انڈیا کو اسٹرونگ رومز سے ملک کے دیگر مقامات پر الیکٹرونک مشینز کی منتقلی کی شکایات سن کر اس پر فوری کارروائی کی جائے۔

اس سلسلے میں اپوزیشن کی 22 جماعتوں نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی اور 23 مئی کو انتخابی نتائج سے قبل مختلف پولنگ اسٹیشن سے لی گئی کاغذی رسیدوں کی تصدیق کرنے کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں: ایگزٹ پولز: نریندر مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا امکان

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر جانچ پڑتال کے درمیان ووٹر ویریفائیڈ پیپر آڈٹ ٹریل میں کوئی ردو بدل پایا گیا تو اس حلقے کے تمام پولنگ اسٹیشنز کی پیپر سلپ کی مکمل گنتی کی جانی چاہیے تا کہ اس کاموازنہ ایکٹرونک مشین کے نتائج سے کیا جاسکے۔

اس حوالے سے کانگریس رہنما غلام نبی آزاد نے الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ای سی آئی کو آگاہ کیا کہ وی وی پی اے ٹی کی گنتی پہلے کی جائے اور اگر کوئی بے ضابطگی پائی جائے تو اس حلقے کے تمام ووٹس دوبارہ گنے جائیں۔

تیلگو جماعت کے رہنما چندرا بابو کا کہنا تھا کہ ’ہم ای سی آئی سے مطالبہ کررہے ہیں کہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اس میں ساز باز نہیں کی جاسکتی‘۔

یہ بھی پڑھیں: ‘مودی لائی’ راہول گاندھی کا انگریزی لغت میں نئے لفظ کے اضافے کا دعویٰ

دوسری جانب بہوجن سماج پارتی کی رہنما ستیش چندرا نے الزام لگایا کہ ’اترپردیش میں بڑے پیمانے پر الیکٹرونک مشین کی گڑبڑ سامنے آئی ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مرکزی فورسز کو تعینات کیا جائے۔