انڈونیشیا: انتخابی نتائج کے خلاف شدید احتجاج، جھڑپوں میں 6 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 22 مئ 2019

ای میل

جوکو ویدودو کی فتح کے اعلان کے بعد 70 فیصد مظاہرین کو گرفتار اور سوشل میڈیا پر جزوی بندش عائد کردی گئی — فوٹو: اے ایف پی
جوکو ویدودو کی فتح کے اعلان کے بعد 70 فیصد مظاہرین کو گرفتار اور سوشل میڈیا پر جزوی بندش عائد کردی گئی — فوٹو: اے ایف پی

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا میں میں انتخابات میں دوسری مدت کے لیے جوکو ویدودو کی فتح کے اعلان کے بعد پولیس اور مظاہرین کے دوران جھڑپوں میں 6 افراد ہلاک ہوگئے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق جکارتا میں فسادات کے نتیجے میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور اکثر علاقوں میں جلی ہوئی گاڑیوں اور ملبے کے ڈھیر موجود ہیں۔

انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے امریکی اور آسٹریلوی سفارت خانوں نے سیکیورٹی ایڈوائزری کو متحرک کردیا تھا۔

افواہوں اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کے تحت حکام نے سوشل میڈیا تک رسائی پر بھی پابندی عائد کردی۔

مزید پڑھیں: انڈونیشیا کے صدارتی انتخابات میں ایک بار پھر ویدودو کامیاب

نیشنل پولیس چیف ٹیٹو کارناویان نے بتایا کہ 6 افراد ہلاک ہوگئے لیکن انہوں نے حکام کی جانب سے مجمع پر براہ راست فائرنگ کرنے کے بیان کو مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ' کچھ افراد کو گولیوں سے زخم آئے، بعض دھکم پیل سے زخمی ہوئے لیکن ہمیں اس واقعے پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے'۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

گزشتہ روز انڈونیشیا میں فسادات کا آغاز اس وقت ہوا جب الیکشن کمیشن نے 17 اپریل کو ہونے والے الیکشن میں جوکو ویدودو کے حریف سابق فوجی جنرل پرابوو سوبیانتو کی شکست کی تصدیق کی۔

پرابوو سوبیانتو نے کہا کہ وہ نتائج کو عدالت میں چیلنج کریں گے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا تھا کہ نتائج میں دھاندلی کی وجہ سے سڑکوں پر مظاہرے بھی کیے جاسکتے ہیں۔

آج ( بدھ کو) صبح مظاہرین نے بازار میں مختلف اسٹالز اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا جبکہ منتشر ہونے کے احکامات جاری کرنے والے حکام پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔

بعد ازاں مظاہروں کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں تک جانے والے راستے، شاپنگ مالز، کاروباری مراکز اور اسکول بند ہوگئے جبکہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

گزشتہ روز انتخابات کے سرکاری نتائج سے قبل کسی بھی قسم کی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے 30 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

سوشل میڈیا کی جزوی بندش

حکام کا کہنا ہے کہ 70 فیصد مظاہرین کو گرفتار کیا جاچکا ہے، انہوں نے فسادات کو مذموم عناصر کی منصوبہ بندی قرار دیا۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

چیف سیکیورٹی وزیر ویرانتو نے کہا کہ سوشل میڈیا تک رسائی کو جزوی طور پر بند کیا جارہا ہے، جس میں فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ اور انٹرنیٹ کو محدود کیا جانا شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا میں مسافر جہاز سمندر میں گر کر تباہ

الیکشن حکام اور تجزیہ کاروں کی جانب سے پرابوو سوبیانتو کے دعووں کو مسترد کیا گیا ہے جبکہ اکثر حامی ان کے دعوے کو مانتے ہیں۔

مظاہروں کے دوران سابق آرمی جنرل کے کئی اتحادیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سابق اسپیشل فورسز کمانڈر بھی شامل ہیں، ان پر مظاہرین کو ہتھیار اسمگل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

سوبیانتو کی حمایت میں مظاہروں کی وجہ سے مخالفین کی جانب سے آن لائن احتجاج کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر پرابوو کو گرفتار کرو کا ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کررہا ہے۔