عورت مارچ کیس: درخواست گزار کو مقدمے کیلئے ایف آئی اے سے رجوع کرنے کی ہدایت

ای میل

عدالت کے مطابق شوشل میڈیا پر غیر اخلاقی تصاویر اپ لوڈ ہوئی، جس کا فورم ایف آئی اے ہے — فائل فوٹو/ ایمنسٹی انٹرنیشنل
عدالت کے مطابق شوشل میڈیا پر غیر اخلاقی تصاویر اپ لوڈ ہوئی، جس کا فورم ایف آئی اے ہے — فائل فوٹو/ ایمنسٹی انٹرنیشنل

لاہور کی مقامی عدالت نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عورت مارچ کے حوالے سے مقدمے کے اندراج سے متعلق کیس میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست گزار کو مقدمے کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

لاہور کی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج عامر حبیب نے آمنہ ملک کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔

فیصلے میں عدالت نے عورت مارچ میں حصہ لینے والی خواتین کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے درخواست گزار کو ایف آئی اے سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شوشل میڈیا پر غیر اخلاقی تصاویر اپ لوڈ ہوئی، جس کا فورم ایف آئی اے ہے۔

مزید پڑھیں: عورت مارچ کے شرکا کےخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

فیصلے میں کہا گیا کہ پولیس کے مطابق کوئی غیر قانونی اقدام اس ریلی میں نہیں ہوا اور سائبر کرائم کے تحت مقدمہ ایف آئی اے حکام درج کر سکتے ہیں۔

گذشتہ روز عدالت نے رواں سال عورت مارچ میں مبینہ طور پر غیر اخلاقی اور غیر آئینی حرکات پر اس کے شرکا کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

سول سوسائٹی نیٹ ورک کی آمنہ ملک نے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعات 22 'اے' اور 22 'بی' کے تحت مقدمہ کے اندراج کی درخواست کی تھی۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ عورت مارچ کے شرکا کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے تھانہ سول لائنز کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کو درخواست جمع کروائی گئی، تاہم انہوں نے مقدمے کے اندراج میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔

عدالت میں اپنے وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے ذریعے درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ 9 مارچ کو خواتین کی جانب سے عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں خواتین نے اخلاقیات سے گرے ہوئے نعرے لگائے اور بینرز آویزاں کیے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں عورت کی پریشانی کی وجہ صرف مرد نہیں بلکہ ...

وکیل نے دعویٰ کیا تھا کہ عورت مارچ اسلامی اقدار کے ساتھ ساتھ آئین اور قانون کے بھی منافی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ وہ عورت مارچ میں حصہ لینے والی خواتین اور اسے منعقد کروانے والی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

6 مئی کو جج نے سی سی پی او لاہور اور پولیس کے شکایتی سیل کو درخواست پر 14 مئی کے لیے نوٹسز جاری کیے تھے۔

گذشتہ روز کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عامر حبیب کی جانب سے درخواست کی سماعت کے دوران ضلعی شکایتی افسر (ڈی سی او) اور سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) فیصل مختار نے پولیس کی طرف سے جواب جمع کروایا۔

پولیس نے جواب میں کہا تھا کہ خواتین کے عالمی دن پر گورنر ہاوس کے سامنے خواتین نے ریلی نکالی جس میں کوئی غیر قانونی یا غیر اخلاقی کام نہیں ہوا، جبکہ پرامن ریلی نکالنے پر مقدمہ درج نہیں ہو سکتا۔