پاکستان کا بیلسٹک میزائل شاہین 2 کا کامیاب تجربہ

اپ ڈیٹ 23 مئ 2019

ای میل

اس تجربے کا مقصد فوج کی اسٹریٹجک فورسز کمانڈ کی عملی تیاری کو یقینی بنانا تھا—تصویر:آئی ایس پی آر
اس تجربے کا مقصد فوج کی اسٹریٹجک فورسز کمانڈ کی عملی تیاری کو یقینی بنانا تھا—تصویر:آئی ایس پی آر

راولپنڈی: پاکستان نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شاہین 2 کا کامیاب تجربہ کرلیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ڈی جی آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق اس تجربے کا مقصد فوج کی اسٹریٹجک فورسز کمانڈ کی عملی تیاری کو یقینی بنانا تھا۔

اس بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی سماجی روابط کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کر کے شاہین 2 کے کامیاب تجربے کے بارے میں بتایا۔

آئی ایس پی آر کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شاہین 2 میزائل روایتی اور جوہری دونوں اقسام کے ہتھیاروں کو 15سو کلومیٹر سے زائد کی رینج تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

شاہین 2 انتہائی قابلیت کا حامل میزائل ہے جو خطے میں دفاعی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی اسٹریٹجک ضروریات پر پورا اترتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے 'ابابیل' میزائل کی تفصیلات

بحیرہ عرب میں کیے گئے اس تجربے کا مشاہدہ ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹجک پلان ڈویژن، کمانڈر آرمی اسٹریٹجکفورسز کمانڈ، چیئرمین نیسکوم، آرمی اسٹریٹجک فورسز کمانڈ کے اعلیٰ افسران اور اسٹریٹجک آرگنائزیشن کے سائنسدانوں اور انیجینئرز نے کیا۔

کامیاب تجربے کے انعقاد پر چیئرمین جے اسی ایس سی اور سروسز سربراہان نے سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دی، اس کے ساتھ صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے بھی اس کامیابی پر سراہا۔

بھارت کا دنیا کے تیز ترین میزائل کے کامیاب تجربے کا دعویٰ

دوسری جانب بھارت نے ایک روز قبل دعویٰ کی تھا کہ لڑاکا طیارے سے فائر کیے گئے دنیا کے تیز ترین کروز میزائل نے زمین پر موجود ہدف کو نشانہ بنا کر ایک اور اہم جانچ میں کامیابی حاصل کرلی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا 'شاہین تھری' میزائل کا کامیاب تجربہ

بھارت روس کے ساتھ مل کر سپرسونک براہموس میزائل بنا رہا ہے جس کی رفتار 3 ہزار 450 کلومیٹر(2 ہزار140 میل) فی گھنٹہ ہے اور اسے جلد فروخت کے لیے پیش کردے گا۔

بھارتی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق خصوصی طور پر تدوین شدہSu-30 MKI لڑاکا طیارے نے کامیابی سے 2.5 ٹن میزائل فائر کیا جس کی حد 300 کلومیٹر یا 185 میل ہے۔

تاہم اس تجربے کی مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا اور اس کے بجائے صرف اتنا کہا گیا کہ روسی ساختہ لڑاکا طیارے میں کچھ انتہائی پیچیدہ میکانکی، برقیاتی اور سافٹ ویئر تبدیلیاں کی گئیں اور اس کے پہلا تجربہ نومبر 2017 میں کیا گیا تھا۔