ہواوے امریکی پابندیوں سے کس حد تک متاثر ہوسکتی ہے؟

24 مئ 2019

ای میل

امریکی پابندی کافی تباہ کن ثابت ہوگی — رائٹرز فوٹو
امریکی پابندی کافی تباہ کن ثابت ہوگی — رائٹرز فوٹو

امریکی پابندیوں کی شکار چین کی اسمارٹ فونز بنانے والی کمپنی ہواوے کی ڈیوائسز کی فروخت میں رواں سال 25 فیصد کمی آنے کا امکان ہے جبکہ اس کے اسمارٹ فونز عالمی مارکیٹس سے غائب ہوسکتے ہیں۔

خبررساں ادارے رائٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ اگر امریکی پابندی برقرار رہی تو دنیا کی دوسری بڑی اسمارٹ فون کمپنی ہواوے کی ڈیوائسز کی فروخت میں 2019 کے دوران 4 سے 24 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ ہواوے فونز کی شپمنٹس میں اگلے 6 ماہ تک کمی آئے گی مگر درست اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ پابندی کے حوالے سے کافی کچھ غیریقینی ہے۔

امریک اور چین سے جاری تجارتی جنگ میں شدت آنے کے بعد امریکی محکمہ تجارت نے گزشتہ ہفتے ہواوے کو امریکی مصنوعات کی خریداری سے روک دیا تھا اور اس کا اطلاق امریکی ساخہ ٹیکنالوجی اور میٹریلز پر کیا گیا جبکہ ممکنہ طور پر امریکا سے باہر کمپنیاں بھی اس کی زد میں آسکتی ہیں، مگر فی الحال امریکی محکمے نے ہواوے کو 3 ماہ کے لیے عارضی ریلیف دیا ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے گوگل اور چپ ڈیزائنر اے آر ایم نے ہواوے سے اپنے تعلقات منطقع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

رائٹرز سے بات کرتے ہوئے اسٹرٹیجی اینالیٹکس کی وائرلیس اسمارٹ فون اسٹرٹیجز ڈائریکٹر لنڈا سوئی کا کہنا تھا 'اگر گوگل سروسز تک رسائی ختم ہوئگی تو ہواوے مغربی یورپ کی اسمارٹ فون مارکیٹ سے اگلے سال تک باہر ہوسکتی ہے'۔

انہوں نے پیشگوئی کی کہ ہواوے فونز شپمنٹس میں اگلسے سال تک مزید 23 فیصد کمی آئے گی مگر ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ یہ کمپنی چینی مارکیٹ کے حجم کے باعث خود کو بحران سے باہر نکال لے گی۔

دوسری جانب فیوبون ریسرچ اینڈ اسٹرٹیجی اینالیٹکس نے کچھ عرصے پہلے پیشگوئی کی تھی کہ ہواوے دنیا بھر میں 2019 کے دوران 25 کروڑ 80 لاکھ اسمارٹ فونز فروخت کرے گا مگر اب اس کا کہنا ہے کہ بدترین منظرنامے میں یہ تعداد 20 کروڑ تک رہنے کا امکان ہے۔

انڈسٹری ٹریکر آئی ڈی سی کے مطابق ہواوے کا اس وقت عالمی مارکیٹ میں 30 فیصد شیئر ہے اور اس نے گزشتہ سال دنیا بھر میں 20 کروڑ سے زائد فونز فروخت کیے، جن میں سے 50 فیصد چین سے باہر تھے۔

ہواوے یورپ کو اپنے فلیگ شل فونز کے لیے اہم ترین مارکیٹ تصور کرتی ہے۔

ہواوے کا کہنا ہے کہ اس نے ایسی ٹیکنالوجی کو تیار کیا ہے جو برسوں تک خودانحصاری کے لیے کافی ثابت ہوگی مگر ماہرین کمپنی کے دعویٰ سے کچھ زیادہ مطمئن نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہواوے ڈیوائسز کے لیے درکار پرزہ جات اور دیگر امریکا سے باہر دستیاب نہیں۔

ایک ماہر اسٹیورٹ رینڈل کے مطابق 'ہواوے کو ممکنہ طور پر ہزاروں افراد کو نکالنا ہوگا اور کچھ وقت کے لیے عالمی مارکیٹ سے غائب ہونا ہوگا'۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا تھا کہ ہواوے فونز کو خریدنے والوں کو فلیگ شپ ڈیوائسز کے لیے ممکنہ طورپر سام سنگ اور ایپل کا رخ کرنا ہوگا جبکہ مڈرینج فونز کے لیے اوپو اور ویوو کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔

آئی ڈی سی میں گلوبل اسمارٹ فونز ریسرچر برائن ما کے مطابق ہواوے کو مارکیٹ میں اپنا کافی شیئر حریف کمپنیوں کے حوالے کرنا پڑسکتا ہے خصوصاً سام سنگ کو یورپ جیسے خطوں میں مضبوط ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔

پرائس اسپائی نامی ایک پراڈکٹ سائٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد ہواوے فونز کے لیے آن لائن شاپرز کی جانب سے کلک بہت کیے جارہے ہیں۔

سائٹ کا کہنا تھا 'گزشتہ 4 دنوں کے دوران ہواوے فونز مقبولیت میں نیچے گرگئے ہیں جبکہ برطانیہ میں ان پر کلکس میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 50 فیصد کمی آئی ہے جبکہ عالمی سطح پر 26 فیصد کمی دیکھنے میں آئی'۔