کابل کی مسجد میں دھماکا، امام جاں بحق، 16 افراد زخمی

25 مئ 2019

ای میل

افغان سیکیورٹی اہلکار دھماکے کا نشانہ بننے والی مسجد کے باہر الرٹ کھڑے ہیں — فوٹو: رائٹرز
افغان سیکیورٹی اہلکار دھماکے کا نشانہ بننے والی مسجد کے باہر الرٹ کھڑے ہیں — فوٹو: رائٹرز

افغانستان کے دارالحکومت کابل کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے کے نتیجے میں معروف مذہبی اسکالر جاں بحق اور 16 افراد زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق ابتدائی طور پر مشرقی کابل کی التقویٰ مسجد میں دھماکے کی نوعیت معلوم نہیں ہو سکی، جہاں مولوی سمیع اللہ ریحان امام تھے۔

مسجد میں دھماکا تقریباً ایک بجکر 20 منٹ پر ہوا جس کی ابتدائی طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نَصرت رحیمی نے کہا کہ 'بدقسمتی سے دھماکے میں مولوی سمیع اللہ ریحان شہید اور 16 نمازی زخمی ہوئے۔'

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: مسجد میں دھماکا، 25 افراد جاں بحق

پولیس ترجمان فردوس فرامرز نے بھی مولوی سمیع اللہ کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ تفتیش کار دھماکے کی نوعیت معلوم کر رہے ہیں۔

مقامی ٹیلی ویژن چینل 'طلوع' کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دھماکا بم کے ذریعے کیا گیا۔

واضح رہے کہ مولوی سمیع اللہ ریحان کابل کے معروف مذہبی اسکالر تھے جنہیں مقامی ٹی وی کے مذہبی شوز میں اکثر مدعو کیا جاتا تھا۔

ان کے فیس بک پیج پر انہیں افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ کھڑا دیکھا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان: فوجی اڈے کی مسجد میں دھماکا، 27 اہلکار ہلاک

خیال رہے کہ افغانستان کافی عرصے سے بدامنی کا شکار ہے اور آئے روز افغان دارالحکومت سمیت مختلف صوبوں میں بم دھماکے اور حملے کیے جاتے ہیں جن میں غیر ملکی افواج سمیت مقامی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔