فاٹا کا رہائشی 2 سال بعد دوبارہ پاکستانی شہری قرار

اپ ڈیٹ 25 مئ 2019

ای میل

قانون کے مطابق نادرا کسی سے بھی اس کی شناخت ثابت کرنے کا کہہ سکتا ہے — فائل فوٹو/رائٹرز
قانون کے مطابق نادرا کسی سے بھی اس کی شناخت ثابت کرنے کا کہہ سکتا ہے — فائل فوٹو/رائٹرز

اسلام آباد: فاٹا کے نام سے معروف خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے کے ایک رہائشی ملک عطا اللہ کو اپنی شہریت واپس حاصل کرنے میں 2 سال کا عرصہ لگا، جس کے لیے پارلیمنٹ کو بھی مداخلت کرنی پڑی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ایک مراسلہ پڑھ کر سنایا جس کے مطابق ’اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ ملک عطا اللہ اور ان کے اہلِ خانہ قبائلی اضلاع کے حقیقی رہائشی اور پاکستانی شہری ہیں‘۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارلیمانی کمیٹی میں ملک عطا اللہ کا کیس بیان کیا گیا جن کی شہریت کو ’سیاسی انتقام‘ کی بنا پر چیلنج کیا گیا تھا۔

مذکورہ معاملہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے اٹھایا تھا، جن کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو استعمال کر کے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ پر آواز اٹھانے والے افراد کو بلیک میل کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلاک شناختی کارڈ کھلوانے کا اذیت ناک تجربہ

اس ضمن میں حکومتی موقف کی وضاحت کے لیے باجوڑ کے ڈپٹی کمشنر عثمان محسود کو طلب کیا گیا تھا جن کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کسی کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کا اختیار نہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ’خفیہ اداروں کو جب کسی شخص پر شبہ ہوتا ہے تو ان کی ہدایات پر نادرا شناختی کارڈ بلاک کرتی ہے، نادرا اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ کیس سادہ ہے یا پیچیدہ ہے، جس کے بعد تصدیق کے لیے معاملہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو بھیجا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کیس میں پولیٹکل ایجنٹ نے کہا تھا کہ اسے کلیئر ہونا چاہیے لیکن باجوڑ کے سابق ڈپٹی کمشنر کے خیال میں اس میں مزید تحقیقات کی ضرورت تھی۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں باجوڑ کے ڈپٹی کمشنر کا عہدہ سنبھالے صرف 6 ماہ ہوئے ہیں اور عطا اللہ ملک کے کیس میں اب تک یہ الجھن تھی کہ آیا یہ کیس سادہ تصدیق کا ہے یا پیچیدہ معاملہ ہے۔

مزید پڑھیں: ’قومیت یا تعصب پر پختونوں کے شناختی کارڈ بلاک نہیں کیے جائیں گے‘

انہوں نے کہا کہ ’تاہم اب معاملہ حل ہوچکا ہے اور اس بات کی نشاندہی ہوچکی ہے کہ عطا اللہ ملک پاکستانی ہیں‘۔

اس ضمن میں نادرا (آپریشنز) کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر (ر) نثار میر نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان سخت مشکل دور سے گزرا ہے اور سرحد پار سے آنے والے افراد نے پاکستانی شہریت حاصل کرنے کی کوشش کی، جس میں سے کچھ کامیاب بھی ہوئے۔

ان چند افراد کے سیکیورٹی رسک بننے سے پاکستان کا غلط تشخص قائم ہوا، اس لیے ایجنسیز خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے غیر ملکی افراد کو پاکستانی شہریت حاصل کرنے سے روکنے پر زور دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’قانون کے مطابق نادرا کسی سے بھی اس کی شناخت ثابت کرنے کا کہہ سکتا ہے اور عطا اللہ ملک کا کیس ایجنسیوں نے ایک پیچیدہ کیس قرار دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا‘۔

یہ بھی پڑھیں: بلاک شناختی کارڈ کا سر درد

جس کے بعد بریگیڈیئر (ر) نثار میر نے عطا اللہ ملک کو پیش آنے والی زحمت پر ان سے معذرت بھی کی جو اجلاس میں موجود تھے۔

نادرا حکام کے مطابق تمام صوبوں سے مجموعی طور پر ایک لاکھ 23 ہزار افراد کے شناختی کارڈ بلاک کیے گئے ہیں جن کی شہریت پر سوالات ہیں۔

تاہم سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک عطا اللہ 2 مرتبہ 8 سال کی مدت کے لیے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ضلعی صدر رہ چکے ہیں اور دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کے نتیجے میں سگے بیٹے سمیت اپنے خاندان کے تقریباً ایک درجن افراد کھو چکے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک عطا اللہ پر بھی کئی قاتلانہ حملے ہوئے جن میں وہ محفوظ رہے تاہم انہیں ابھی دھمکیاں موصول ہوتی ہیں، اس موقع پر ان کے بیٹے ملک حکمت اللہ نے شکایت کی کہ حکومت کی جانب سے ان کے والد کو فراہم کی گئی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ڈیڑھ لاکھ بلاک شناختی کارڈز عارضی طور پر بحال

حکمت اللہ کا کہنا تھا کہ ’کمیٹی کی جانب سے ہمیں سیکورٹی فراہم کرنے کے احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوا اور ہمارے خاندان کو خطرہ ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن کے دوران ملک عطا اللہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون اور اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر ان کے جذبہ حب الوطنی کو مسلح افواج اور فرنٹیئر کور نے سراہا تھا۔