چیئرمین نیب کی متنازع ویڈیو کے معاملے پر اپوزیشن تقسیم

ای میل

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اس معاملے کی تحقیقات کے طریقے اور استعفے کے مطالبے  پر اختلاف پایا جاتا — فائل فوٹو/ ڈان نیوز
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اس معاملے کی تحقیقات کے طریقے اور استعفے کے مطالبے پر اختلاف پایا جاتا — فائل فوٹو/ ڈان نیوز

اسلام آباد/لاہور: ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال سے متعلق مبینہ آڈیو اور ویڈیو لیک ہونے کے معاملے پر دو رائے موجود ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دونوں جماعتیں، جنہوں نے حال ہی میں عید کے بعد حکومت مخالف تحریک کے لیے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا، ان کے درمیان چیئرمین نیب کے استعفے کے مطالبے اور معاملے کی تحقیقات کے طریقے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کا ماننا ہے کہ چیئرمین نیب کو معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے تک مستعفی ہوجانا چاہیے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔

مزید پڑھیں: چیئرمین نیب کا معاملہ، مسلم لیگ (ن) تقسیم

اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) خود بھی مذکورہ معاملے پر تقسیم ہوگئی ہے، پارٹی میں موجود کچھ افراد کا ماننا ہے کہ چیئرمین نیب سے استعفے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ ہونا چاہیے جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ معاملے کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ماننا تھا کہ پارلیمانی تحقیقات زیادہ کارآمد نہیں ہوں گی کیونکہ چیئرمین نیب کی مبینہ آڈیو اور ویڈیو جاری کیے جانے سے متعلق حقائق جاننے کے لیے فارنزک اور دیگر تکنیکوں کی ضرورت ہوگی۔

پی پی پی سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا 'یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس میں فارنزک تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ چیئرمین نیب پر کون دباؤ ڈالنا چاہتا ہے اور کس لیے ایسا چاہتا ہے؟'

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کے پاس عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز نہیں اور یہ ادارے کے مفاد میں ہے کہ وہ انکوائری مکمل ہونے تک عہدے سے دستبردار رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب سمیت متعدد افراد کو 'بلیک میل کرنے والے گروہ' کے خلاف ریفرنس دائر

پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تنازع سے وزیراعظم عمران خان اور چیئرمین نیب مشکل کا شکار ہوگئے ییں اور اگر عقلمندی سے کام لیا جائے تو سیاسی رہنما بذات خود حالیہ صورتحال سے سیاسی مفادات حاصل کرسکتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ 'آپ دیکھیں کہ اس وقت حکومت اور وزیراعظم عمران خان دباؤ کا شکار ہیں، جو حکمراں جماعت اور وفاقی وزرا کے بیانات سے صاف ظاہر ہے جنہوں نے اب چیئرمین نیب کا دفاع کرتے ہوئے آڈیو اور ویڈیو جاری کرنے پر چیئرمین نیب پر اپوزیشن پر انگلیاں اٹھانی شروع کردی ہیں'۔

سینئر رہنما نے کہا کہ وہ ایک مکمل تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ چیئرمین نیب ان مبینہ آڈیو اور ویڈیو کے پیچھے چھپے اصل مقاصد اور اصل افراد سے آگاہ ہوسکیں۔

پاکستان تحریک انصاف کا رد عمل

پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات عمر سرفراز چیمہ نے ایک جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، چیئرمین نیب پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے اور اس کی کارروائیوں میں موجودہ حکومت کا کردار نہیں۔

عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) احتساب سے بچنے کے چیئرمین نیب کے خلاف مہم چلارہی ہے۔