سری لنکا: ایسٹر دھماکوں کے مزید ملزمان کی گرفتایوں کیلئے آپریشن

26 مئ 2019

ای میل

21 اپریل کے بعد مسلمانوں کی املاک پر متعدد حملے بھی کیے گئے، جس میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا  — فوٹو: اے ایف پی
21 اپریل کے بعد مسلمانوں کی املاک پر متعدد حملے بھی کیے گئے، جس میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا — فوٹو: اے ایف پی

کولمبو: سری لنکن فوج نے ایسٹر دھماکوں میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے آپریشن کا آغاز کردیا ہے، ان حملوں میں 258 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ دھماکے سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو اور اس کے مضافات میں قائم 3 مسیحی عبادت گاہوں اور متعدد ہوٹلز میں کیے گئے تھے، جس کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی جبکہ کشیدہ صورحال کے دوران مسلمانوں کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایسٹر دھماکوں کے بعد سری لنکا میں حجاب پر پابندی

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق فوجی حکام نے بتایا کہ 'کولمبو کے مضافات میں 3 علاقوں کو گھیرے میں لے کر ان میں سرچ آپریشن کیا جارہا ہے'۔

اس کے علاوہ ایسا ہی ایک آپریشن کولمبو کے قریب ملک کے شمال مغربی صوبے میں بھی جاری ہے جہاں گذشتہ ماہ مسلمانوں کی املاک، دکانوں اور مسجد، پر ہونے والے حملوں میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا تھا۔

واضح رہے کہ کولمبو میں ہونے والے دھماکوں کے بعد ملک کی سیکیورٹی فورسز نے مسلمان اقلیت والے جزیرے سے متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا: دھماکوں کے الزام میں 13 افراد گرفتار

بعد ازاں سری لنکا کے آزادی کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی ایس ایل) نے پولیس پر الزام لگایا کہ وہ دھماکوں کے بعد ملک میں پیدا ہونے والے صورت حال میں مسلمانوں پر حملے رکوانے میں ناکام رہے۔

ایچ آر سی ایس ایل نے قائم مقام پولیس چیف چاندانا وکرمارتنے کو تحریر کیے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ '21 اپریل کے واقعات کے بعد مسلمان برادری کو تشدد سے بچانے کے لیے بظاہر اقدامات نہیں کیے گئے'۔


یہ رپورٹ 26 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی