عراق: داعش سے تعلق کے جرم میں 3 فرانسیسی شہریوں کوسزائے موت

26 مئ 2019

ای میل

تینوں فرانسیسیوں کو شام میں دوران جھڑپ گرفتار کیا گیا تھا—فائل فوٹو: اے اپی
تینوں فرانسیسیوں کو شام میں دوران جھڑپ گرفتار کیا گیا تھا—فائل فوٹو: اے اپی

عراق کی عدالت نے دہشت گردی تنظیم داعش سے تعلق کے جرم میں 3 فرانسیسی شہریوں کو سزائے موت سنادی۔

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق تینوں فرانسیسیوں کو شام میں دوران جھڑپ گرفتار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ مذکورہ تینوں افراد پہلے فرانسیسی ہیں جنہیں سزائے موت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: عراقی فوج نے داعش کے میڈیا سینٹر سمیت 15 ٹھکانوں کو تباہ کردیا

مقامی میڈیا کے مطابق تینوں فرانسیسی کیون گونٹ، لیونارڈ لوپز اور سلیم ماچکو کو عدالتی فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر اپیل کرنے کا حق ہے۔

خیال رہے کہ جنگ زدہ ملک شام میں گزشتہ چند مہینوں سے ہزاروں داعش کے جنگجوؤں نے خود کو اتحادی فوجیوں کے حوالے کردیا تھا تاہم زیر حراست ہزاروں جنگجوؤں کے خلاف عراق کی عدالت میں مقدمات زیرسماعت ہیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ تینوں فرانسیسی باشندے ان زیر حراست 12 فرانسیسوں میں شامل نہیں جنہیں فروری میں شام سے عراق منقتل کیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اب تک کسی غیرملکی داعش کے جنگجو کو سزا کے مطابق موت کے گھاٹ نہیں اتارا گیا۔

مزیدپڑھیں: داعش کو عراق میں آخری قصبے میں بھی شکست

واضح رہے کہ 2017 کے اواخر میں عراق کی فوج نے امریکی سربراہی میں اتحادیوں کی حمایت سے داعش سے تین سال سے بھی زائد عرصے تک قبضے میں رہنے والے قصبے راوہ کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

عراق کی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ رسول نے کہا تھا کہ فوج اور مقامی قبائلی جنگجو نے مغربی صوبے انبار کے علاقے راوہ میں پانچ گھنٹے کی لڑائی کے بعد داعش کو پیچھے دھکیل دیا گیا اور علاقے کا قبضہ دوبارہ حاصل کرلیا گیا۔

عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے راوہ کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے پر فوج کو مبارک باد دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: عراق میں دائمی امن کیلئے ’داعش کی نرسری‘ کو تباہ کرنے کی ضرورت

حیدرالعبادی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ عراقی فورسز نے رواہ کو ریکارڈ وقت میں آزاد کروا دیا ہے اور عراق کے مغربی صحرا اور شام کے ساتھ سرحد پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے آپریشن جاری رکھا۔