عراق و ایران کا امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا عزم

اپ ڈیٹ 26 مئ 2019

ای میل

جنگ کے خطرات جنم لے رہے ہیں، عراقی وزیراعظم —فوٹو: اےایف پی
جنگ کے خطرات جنم لے رہے ہیں، عراقی وزیراعظم —فوٹو: اےایف پی

عراق نے امریکی عسکری جارحیت کے خلاف ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کردیا۔

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف نے عراق کے دورے میں اپنے عراقی ہم منصب محمد علی الحکیم سے ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے ایران کے ساتھ 4 دہائی پرانا سفارتی معاہدہ منسوخ کردیا

دونوں رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں عراقی رہنماؤں نے جنگ کے خطرات سے خبردار کیا۔

خیال رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں بی 52 بمبار اور جنگی بحری بیڑا پہلے ہی تعینات کرچکے ہیں تاہم گزشتہ روز انہوں نے 15 سو فوجی پر مشتمل خصوصی دستے بھی تعینات کردیئے جس سے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

اس حوالے ایرانی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف نے کہا کہ ’ہم ایران کے خلاف اقتصادی اور فوجی جنگ کے اقدامات کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں‘۔

مزیدپڑھیں: امریکا کی ایران کو سویلین جوہری منصوبے جاری رکھنے کی اجازت

انہوں نے عراق کے تناظر مزید کہا کہ ’ہم مل کر بھرپور طاقت سے (امریکا) کا سامنا اور مزاحمت کریں گے‘۔

ایرانی وزیر خارجہ کے عراقی ہم منصب محمد علی الحکیم نے کہا کہ ’ہم اپنے پڑوسی ایران کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔

انہوں نے امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندی غیرضروری قرار دیا اور کہا کہ ’پابندی سے ایرانی شہریوں کو بڑی مشکلات کا سامنا ہے‘۔

عراقی حکام نے بتایا کہ عراقی وزیراعظم عبدالمہدی نے ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں کہا کہ ’جنگ کے خطرات‘ جنم لے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکا کو جوہری معاہدے کی پاسداری کرکے خطے میں استحکام پیدا کرنے کی ضرورت ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے ایران کے ساتھ 4 دہائی پرانا سفارتی معاہدہ منسوخ کردیا

خیال رہے کہ 2015 میں امریکا فرانس، برطانیہ، چین، روس اور جرمنی نے ایران کے ساتھ ایک طویل مدتی ایٹمی معاہدہ کیا تھا جس کا مقصد ایران میں ریسرچ کا کام کرنا اور بغیر کسی پابندی کے ڈر کے ایٹمی ری ایکٹرز پر جوہری مواد کے عدم پھیلاؤ سے متعلق کام کرنا تھا۔

واضح رہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ سابق صدر بارک اوباما کے دور میں کیا گیا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد مئی 2018 میں خود کو اس ڈیل سے علیحدہ کرلیا تھا۔

امریکا کے اس فیصلے کے بعد بھی چین، فرانس، روس، برطانیہ اور جرمنی کے ایران کے ساتھ معاہدے متاثر نہیں ہوئے تھے۔