امریکی پابندی سے ہواوے کے پاکستانی صارفین کتنے متاثر ہوسکتے ہیں؟

اپ ڈیٹ 30 مئ 2019

ای میل

ہواوے پر گزشتہ دنوں امریکی پابندیوں کا نفاذ ہوا — رائٹرز فائل فوٹو
ہواوے پر گزشتہ دنوں امریکی پابندیوں کا نفاذ ہوا — رائٹرز فائل فوٹو

امریکی حکومت کی جانب سے پابندی اور متعدد قیاس آرائیوں سے پاکستانی صارفین میں پائی جانے والی تشویش پر ہواوے نے آفیشل بیان جاری کیا ہے۔

بیان کے مطابق کسی بھی زیربحث موضوع کی طرح اس حوالے سے بھی تصورات، غلط فہمیوں اور ناقص معلومات کا پھیلاﺅ کافی زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ کمپنی نے صارفین میں پائی جانے والی تشویش کو کم کرنے کے لیے چند اہم سوالات کا جواب دیا ہے۔

تاکہ صارفین کو معلوم ہوسکے کہ ان کے ڈیوائسز کس حد تک امریکی پابندی سے متاثر ہوسکتی ہیں۔

کیا امریکی پابندی سے ہواوے ڈیوائس کام کرنا بند کردے گی؟

اس حوالے سے ہواوے فونز استعمال کرنے والے لوگوں میں کافی الجھن پائی جاتی ہے کہ اس پابندی کے نتیجے میں ان کے فون کام کرنا نہ بند کردیں، تاہم کمپنی کے مطابق ایسا بالکل نہیں ہوگا اور فون دیگر فونز کی طرح معمول کے مطابق کام کرتے رہیں گے، اس بارے میں کمپنی نے اپنے پبلک بیان پہلے یہ کہا تھا 'ہواوے سیکیورٹی اپ ڈیٹس اور آفٹر سیلز سروسز کی فراہمی تمام موجود ہواوے اور آنر فونز اور ٹیبلیٹ کے لیے جاری رکھے گی، ان میں وہ تمام مصنوعات شامل ہیں جو فروخت ہوچکی ہیں اور وہ بھی جو تاحال اسٹاک میں موجود ہیں'۔

کیا فونز معمول کے مطابق اپ ڈیٹ ہوں گے؟

ہواوے کے تمام فونز جو فروخت ہوچکے ہیں یا ابھی اسٹورز میں رکھے ہیں، ان کو اینڈرائیڈ سیکیورٹی اپ ڈیٹس اور گوگل پلے اسٹور سے گوگل ایپ اپ ڈیٹس ملتی رہیں گی، اس بارے میں گوگل نے چند روز پہلے یہ بیان دیا تھا 'ہم امریکی حکم کی پابندی کریں گے، ہواوے کی موجودہ ڈیوائسز کے ہمارے صارفین کے لیے ہماری سروسز، گوگل پلے اور گوگل پلے پروٹیکیٹ کے سیکیورٹی تحفظ کی فراہمی جاری رہے گی'۔

یعنی ہواوے کی موجودہ ڈیوائسز کو پلے اسٹور اور اینڈرائیڈ پر سیکیورٹی اپ ڈیٹس تک مکمل رسائی ملتی رہے گی۔

ہواوے کی پریس ریلز میں کہا گیا کہ یہ کمپنی اینڈرائیڈ کے چند بڑے شراکت داروں میں سے ایک ہے اور وہ صارفین کے لیے سپورٹ کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

امریکی پابندی کے اعلان کے بعد (جو فی الحال تین ماہ کے لیے معطل ہے) بھی کمپنی کی جانب سے آنر 20 سیریز کو متعارف کرایا گیا جبکہ بہت جلد وائے سیریز کا ایک فون بھی پیش کیا جارہا ہے۔