فواد چوہدری کا متنازع بیان، حکومت میں ’اندورنی اختلافات‘ سامنے آگئے

اپ ڈیٹ 02 جون 2019

ای میل

میرے انٹرویو پر مبنی ’بعض سرخیاں‘ گمراہ کن تھیں
—فائل فوٹو: اے ایف پی
میرے انٹرویو پر مبنی ’بعض سرخیاں‘ گمراہ کن تھیں —فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں اہم فیصلوں میں منتخب ممبران کی عدم مشاورت سے متعلق وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے بیان سے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف پارٹی میں اندورنی اختلافات ابھر کر سامنے آگئے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے نجی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ ’میرا یقین ہے کہ ہماری حکومت کے سیاسی فیصلے کمزور ہیں، اہم فیصلے کیے جاتے ہیں لیکن ہمیں معلوم نہیں ہوتا، بہتری کی ضرورت ہے کہ کیسے فیصلہ لیا جائے‘۔

یہ بھی پڑھیں: فواد چوہدری: جیسا دیس ویسا بھیس

تقریباً تمام نجی چینلز نے فواد چوہدری کے بیان کو نشر کیا جس کے بعد حکومتی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ’تمام فیصلے عمران خان کی قیادت میں پارٹی لیڈرز کے ساتھ کیے جاتے ہیں‘۔

بعدازاں فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر کہا کہ میرے انٹرویو پر مبنی ’بعض سرخیاں‘ گمراہ کن تھیں۔

انہوں نے وضاحت دی کہ ’فیصلے منتخب ممبران کو کرنا چاہئیں، غیر منتخب ممبران پر بعض اعتراضات ہیں، جس پر توجہ دینی چاہیے‘۔

خیال رہے کہ فواد چوہدری سے اطلاعات و نشریات کی اہم وزارت واپس لے کر انہیں نسبتاً کم اہم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت سونپ دی گئی تھی۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ’پارلیمنٹ اور منتخب اراکین ہی اصل طاقت ہیں، جن پر آپ سبقت نہیں لے جا سکتے‘۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’آخر کار، فیصلہ وزیراعظم کا ہی ہوتا ہے‘۔

مزیدپڑھیں: فواد چوہدری کا جمہوریت سے تعلق نہیں،مرتضٰی وہاب

کابینہ میں حالیہ تبادلوں سے متعلق انہوں نے اقرار کیا کہ جب وہ وزارت اطلاعات و نشریات کا قلمدان سنبھال رہے تھے تب انہیں غیر منتخب اراکین کی جانب سے مداخلت کا سامنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’بہت سارے لوگ وزارت سنبھالنے کی کوشش کررہے تھے‘۔

ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ ’اگر آپ اس مرحلے پر نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دے دیں گے تو آپ کی سیاست ختم ہوجائے گی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ بنانے کی مخالفت کی تھی لیکن انہیں چیئرمین بنادیا گیا، میں نے کہا تھا کہ شہباز شریف کو باہر نہ جانے دیا جائے لیکن ’کسی‘ نے ان کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا، ان تمام اقدامات سے ہم پر سوال اٹھتے ہیں۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ اہم فیصلے ہوجاتے ہیں لیکن کسی کو پتہ نہیں چلتا، اس وقت حکومت میں منتخب اور غیر منتخب لوگوں کی سرد جنگ جاری ہے، انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ یہ سرد جنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی۔

اپنی وزارت تبدیل ہونے سے متعلق سوال پر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی بہت مصروفیات ہوتی ہیں، ان کے پاس مقامی سیاست کے لیے وقت نہیں ہوتا مگر آپ کی اصل قوت پارلیمان ہے اور فیصلہ منتخب افراد کو ہی کرنا ہے، ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں تو فیصلہ سازی کا اختیار نہیں دیا جاسکتا جو کونسلر بھی نہیں بن سکتے۔

مزید پڑھیں: وزارت اطلاعات سے ایم ڈی پی ٹی وی کے تقرر کے اختیارات لے لیے گئے

وزارت اطلاعات میں شروع کی جانے والی اصلاحات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ آپ عالمی منظرنامے پر ریاست پاکستان کو کس طرح پیش کررہے ہیں، پلوامہ واقعہ، سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کے معاملات کو ہم نے بہت بہتر انداز میں طے کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی تاریخ میں طویل عرصے کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی پر وزارت اطلاعات کا کردار نظر آیا، ہمارے ہاں جس طرح بہت سے معاملات فوج پر چھوڑ دیے جاتے ہیں تو انٹرنیشنل میڈیا مینجمنٹ کو بھی آئی ایس پی آر پر چھوڑ دیا جاتا تھا لیکن ہم اسے واپس لائے، اگر عالمی امیج پر فوج کو سامنے رکھیں گے تو پھر ملک کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سویلین چہرہ سامنے ہو تو اس کا مختلف اثر سامنے آتا ہے۔

سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک حکومت کے فوج سے اس سے بہتر تعلقات نہیں تھے، پاک فوج ایک انتہائی منظم اور طاقتور ادارہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا فوج پاکستان کو چلاسکتی ہے، جس کا جواب ہے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سول اداروں کو طاقتور کرنے کے لیے فوج کو کردار ادا کرنا چاہیے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 2 جون 2019 کو شائع ہوئی