مسافروں کی معلومات کی چوری کیخلاف کارروائی میں پی ٹی اے کو ایف آئی کا تعاون حاصل

اپ ڈیٹ 04 جون 2019

ای میل

ایئرپورٹس پر رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے شناختی کارڈ نمبروں کو فون اَن بلاک کرنے کیلئے چوری کیا گیا — فائل فوٹو/ اے ایف پی
ایئرپورٹس پر رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے شناختی کارڈ نمبروں کو فون اَن بلاک کرنے کیلئے چوری کیا گیا — فائل فوٹو/ اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے ) کا کہنا ہے کہ وہ ایئرپورٹس پر موبائل فون رجسٹر کروانے والے مسافروں کی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ نمبر چوری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔

پاسپورٹ نمبر اور کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ( سی این آئی سی) نمبر موبائل رجسٹر کروانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور ان معلومات کو چوری کرکے اوپن مارکیٹ میں کسٹم ادائیگی نہ کرنے والے موبائل فونز کو اَن بلاک کرنے میں استعمال کیا جارہا ہے۔

گزشتہ ہفتے پی ٹی اے نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بتایا تھا کہ شناخت کی چوری سے متعلق 750 کیسز ایف آئی اے میں ارسال کیے گئے ہیں، جس نے کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پی ٹی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ موبائل فون رجسٹریشن کے طریقہ کار کو بہترین بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور موبائئل فون رجسٹریشن کے نئے نظام کے اطلاق کے بعد بھی نان کسٹم پیڈ موبائل کو چوری شدہ شناخت کے ذریعے ان بلاک کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: قائمہ کمیٹی کا موبائل فون رجسٹریشن نظام پر نظِر ثانی کا مطالبہ

پی ٹی اے نے ڈیوائس آئیڈینٹفکیشن، رجسٹریش اینڈ بلاکنگ (ڈی آئی آر بی ایس) کا نظام متعارف کروایا تھا تاکہ غیر معیاری اور اسمگل شدہ فون کی روک تھام کی جاسکے۔

اس مسئلے کی نشاندہی سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ نے کی تھی جنہوں نے نان کسٹمز پیڈ موبائل فون کو ان بلاک کروائے جانے کی 2 ہزار روپے کی رسید پیش کی تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس ایک ادائیگی سے حکومت کو ٹیکس کی مد میں 30 سے 35 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔

ایک بیان میں پی ٹی اے نے کہا کہ موبائل فون کی رجسٹریشن کے لیے سافروں کی سفری معلومات کی چوری سے متعلق شکایات پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت ضروری کارروائی کے لیے ایف آئی اے میں بھیجی گئی ہیں۔

پی ٹی اے نے کہا کہ شکایات کے جواب میں ایف آئی اے نے اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا۔

انہوں نے بیان میں کہا کہ ' پی ٹی اے کو امید ہے کہ ایف آئی اے کی قیادت میں مشترکہ کوششوں سے فراڈ کرنے والے کی جانب سے شناخت کے غلط استعمال کا خاتمہ کیا جائے گا'۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے موبائل فون رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کردی

پی ٹی اے نے بتای کہ وہ مسافروں کی پاسپورٹ تفصیلات اور آئی ایم ای آئی کلونِنگ کے ذریعے غیرقانونی موبائلوں کی رجسٹریشن کے مسئلے سے آگاہ ہیں۔

خیال رہے کہ آئی ایم ای آئی کلوننگ کے ذریعے جعلی ڈیوائسز کو پی ٹی اے سے منظور شدہ آئی ایم ای آئی سے پروگرام کیا جاتا ہے۔

پی ٹی اے نے کہا کہ ڈی آئی آر بی ایس غیر قانونی طریقے سے رجسٹر کیے گئے موبائل فونز کو ٹریس اور بلاک کرنےکی اہلیت رکھتا ہے۔

انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ موبائل فون کی رجسٹریشن کے لیے صرف اپنا پاسپورٹ یا شناختی کارڈ نمبر استعمال کریں اور صرف پی ٹی اے سے تصدیق موبائل فون حاصل کریں ،ایسا نہ ہونے کی صورت میں موبائل فونز کو فوری طور پر بلاک کیا جائے گا اور فریقین کئ خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

پی ٹی آئی نے صارفین کو صحیح طریقے سے موبائل فون رجسٹر کروانے کی ہدایت کی ہے یعنی بذریعہ ٹیکسٹ میسیج، فرنچائز یا آن لائن سہولت کے ذریعے موبائل رجسٹر ہوسکتے ہیں۔


یہ خبر 4 جون 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی