ملک میں مہنگائی کے باعث عید کی خریداری میں واضح کمی

اپ ڈیٹ 06 جون 2019

ای میل

کچھ تاجروں نے خریدوں کو راغب کرنے کے لیے پرانا اسٹاک رعایتی قیمتوں پر فروخت کے لیے پیش کیا — تصویر: اے پی
کچھ تاجروں نے خریدوں کو راغب کرنے کے لیے پرانا اسٹاک رعایتی قیمتوں پر فروخت کے لیے پیش کیا — تصویر: اے پی

کراچی: ملک بھر کے کاروباری افراد کے مطابق رواں برس مہنگائی کی شرح بلند رہنے کے باعث عوام کی قوت خرید کم رہی جس کی وجہ سے عید کے موقع پر خریداری میں بھی کافی حد تک کمی دیکھی گئی۔

پیٹرولیم مصنوعات اور یوٹیلیٹی بلز کی قیمتوں میں اضافے جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی نے درآمدی مصنوعات کو مزید مہنگا کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ملک میں غذائی اشیا سے متعلق مہنگائی مئی میں 9.11 فیصد کی سطح تک پہنچ گئی جو اپریل میں 8.8 فیصد تھی۔

تاجروں نے دعویٰ کیا کہ بچوں کے ہمراہ آنے والے بہت سے خریدار کپڑوں، جوتوں اور درآمدی زیور وغیرہ کی قیمتیں سن کر یا تو خالی ہاتھ لوٹ گئے یا کم کوالٹی پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: مہنگائی کی شرح 9.11 فیصد تک پہنچ گئی

چنانچہ فروخت کے ہدف میں ناکامی پر کچھ تاجروں نے خریدوں کو راغب کرنے کے لیے پرانا اسٹاک رعایتی قیمتوں پر فروخت کے لیے بھی پیش کیا۔

اس سلسلے میں آل پاکستان انجمن تاجران کے چیئرمین (اور جنوبی پنجاب کی نمائندگی کرنے والے) خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا کہ جو لوگ 3 سے 4 سوٹ خریدتے تھے وہ بھی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ایک سے 2 سوٹ تک محدود ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے بازاروں میں خریداری میں تقریباً 33 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جس کے باعث تاجروں کے لیے اپنا ہدف پانا شدید مشکل ہوگیا۔

دوسری جانب مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے جنرل سیکریٹری سید عبدالقیوم آغا کا کہنا تھا کہ صوبے کی مختلف مارکیٹس میں خریداری میں 30 سے 40 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

مزید پڑھیں: آئندہ چند برسوں تک مہنگائی کی شرح بلند رہنے کا امکان

تاہم انہوں نے اس کا ذمہ دار کچھ لالچی قسم کے تاجروں کو قرار دیا جو خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے کے دوران قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کردیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ خود مختلف مارکیٹس میں گئے اور کچھ دکانوں کا جائزہ لیا جہاں انہیں مایوس چہروں کے ساتھ کئی والدین نظر آئے جو قیمت جاننے کے بعد اپنے بچوں کے لیے خریداری نہیں کرسکے۔

ان کے مطابق دکانداروں نے بچوں کے کپڑوں کی قیمت میں بارگیننگ کا مارجن رکھتے ہوئے ان کی قیمتیں 700-600 سے بڑھا کر 1100-1200 کردی تھیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ رمضان کی وجہ سے مٹھائیوں کی قیمتیں 450 سے بڑھا کر 600 روپے فی کلو کردی گئیں اسی طرح بسکٹ کی قیمت 300 روپے سے بڑھ کر 400 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی حکومت کے دوران مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ

اس حوالے سے مرکز تاجران خیبر پختونخوا کے صدر شرافت علی نے دعویٰ کیا کہ عید کی خریداری میں 60 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

ادھر آل کراچی اتحاد چیئرمین عتیق میر نے بتایا کہ رمضان کے آخری عشرے کے دوران بازار میں خریداروں کا ہجوم مصنوعی ثابت ہوا کیوں کہ حقیقی خریداروں کے بجائے زیادہ تر افراد ونڈو شاپنگ (صرف چیزیں دیکھتے ہوئے گزرنے) والے تھے، جس کی وجہ سے کراچی میں فروخت کا ہدف 45 سے 50 ارب روہے ہونے کے باوجود 35 ارب روپے کی خریداری ہوئی۔

عتیق میر کے مطابق درآمدی اشیا کی قیمتوں میں 40-30 فیصد اضافے کے باعث مقامی مصنوعات کی خریداری میں 25-20 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

مزید پڑھیں: کیا اس بار بھی کراچی میں عید کی ریکارڈ خریداری ہوئی ہے؟

کراچی کے ایک مال میں مصنوعی زیورات فروخت کرنے والے شخص نے بتایا کہ روپے کی قدر میں کمی کے باعث درآمد ہونے والے معمولی سے 'بُندے' کی قیمت 40-30 روپے سے بڑھ کر 150-140 ہوچکی ہے جبکہ اعلیٰ کوالٹی کے بندے 350 کے مقابلے 500-450 روپے میں دستیاب ہیں۔

دوسری جانب ایک چوڑیاں فروخت کرنے والے تاجر نے بتایا کہ چوڑیوں کی قیمت میں 20-10 فیصد اضافہ ہوا اور گذشتہ برس کے مقابلے خریداری میں 50-40 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، اس لیے خریدار کم کوالٹی کا سامان خریدنے پر بھی مجبور نظر آئے۔