عیدالاضحیٰ اور محرم کی تاریخوں کا اعلان نامناسب ہے، شوکت یوسفزئی

اپ ڈیٹ 06 جون 2019

ای میل

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی ڈان نیوز سے گفتگو کر رہے ہیں — اسکرین شاٹ
خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی ڈان نیوز سے گفتگو کر رہے ہیں — اسکرین شاٹ

وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی پر تنقید کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کو عیدالاضحی اور محرم الحرام کی تاریخ نہیں بتانی چاہیے تھی کیونکہ اِن کی تاریخوں پر کبھی اختلاف رہا ہی نہیں ہے۔

ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ 'میرا نہیں خیال کہ پاکستان کے اندر عیدالاضحی اور محرم الحرام پر اختلاف رہا ہو'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم خیبرپختونخوا میں تین دن عیدیں مناتے رہے، کسی نے نوٹس نہیں لیا، پہلی مرتبہ اس مسلئے کو سنجیدگی سے لیا گیا اور ہم چاہتے ہیں کہ اب یہ معاملہ ختم ہوجائے'۔

انہوں نے کہا کہ 'اس معاملے کے لیے میری تجویز ہے اور میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پیشکش کرتا ہوں کہ مرکزی رویت ہلاک کمیٹی اور ان کی ٹیم، وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور ان کی ٹیم پشاور آئے اور ہمارے علماء کرام کے ساتھ بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالے'۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے عیدالفطر کے بعد اب عید الاضحیٰ اور محرم الحرام کی عیسویں تاریخوں کا بھی پیشگی کا اعلان کیا تھا۔

قبل ازیں وفاقی وزیر نے رمضان المبارک کے آغاز سے قبل اعلان کیا تھا کہ ہر سال رمضان اور عیدالفطر کے موقع پر پیدا ہونے والے تنازع کے خاتمے کے لیے سائنسدانوں پر مشتمل کمیٹی بنا دی گئی جو آئندہ 10 سال کے لیے قمری کیلنڈر جاری کردے گی۔

عید الفطر کے دوسرے روز سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہجری کیلنڈر کے مطابق عید الاضحیٰ 12 اگست 2019 بروز پیر اور یکم محرم الحرام یکم ستمبر 2019 بروز اتوار کو ہوگی۔

اس سے قبل رویت ہلال کمیٹی کے بجائے سائنسی اعتبار سے چاند کی تاریخوں کا تعین کرنے کے اعلان پر وفاقی وزیر کو مذہبی حلقوں سے خاصی تنقید کا سامنا تھا تاہم کئی نامور شخصیات نے ان کے اس اقدام کو سراہا بھی تھا۔

بعد ازاں رمضان المبارک کے دوران فواد چوہدری کے وعدے کے مطابق 22 مئی کو قمری کیلنڈر جاری کرنے کے ساتھ ساتھ رویت ہلال کے لیے ویب سائٹ بھی لانچ کردی گئی تھی۔

مسلسل تنقید کی زد میں رہتے ہوئے انہوں نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی سربراہ مفتی منیب الرحمٰن اور مسجد قاسم علی خان کے مولانا شہاب الدین پوپلزئی کو بھی دعوت دی تھی کہ آئیں اور خود دیکھیں کہ چاند کس طرح گردش کرتا ہے جس سے سائنسی طور پر چاند کے مقام کا اندازہ لگانا نہایت آسان ہوجاتا ہے۔

بعد ازاں 30 مئی کو انہوں نے چاند دیکھنے کے لیے موبائل ایپلکیشن بھی متعارف کروادی، جسے استعمال کرتے ہوئے ہر شخص اپنے موبائل میں چاند کی گردش کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ ہوسکتا ہے۔

وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تیار کردہ کلینڈر کے مطابق پاکستان میں چاند کی رویت 4 جون کو ہی ممکن تھی جس کے مطابق عید الفطر 5 جون کو ہوئی۔

تاہم حکومت نے باضابطہ طور پر اس کا اعلان نہیں کیا اور معمول کے مطابق پشاور میں 3 جون جبکہ وفاقی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 4 جون کو منعقد ہوا۔

پشاور میں مفتی شہاب الدین پولزئی نے 4 جون کو عیدالفطر کا اعلان کیا تو فواد چوہدری کا دلچسپ بیان سامنے آیا کہ اگر کوئی اپنا نام چاند رکھ لے تبھی آج چاند دیکھنا ممکن ہے، جس پر خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات نے طنزاً کہا کہ مفتی فواد کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے کام پر توجہ دیں حکومت اور علما کو ٹارگٹ نہ کریں۔

خیبر پختونخوا میں سرکاری سطح پر ایک روز قبل عید کے اعلان پر ایک ٹوئٹ میں ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا جس کے جواب میں فواد چوہدری نے جواب دیا کہ پرنٹنگ پریس، ٹرین کا سفر اور لاؤڈ اسپیکر حرام نہیں سمجھانے میں 2 سو سال لگے رویت کے معاملے کا ابھی آغاز ہے وہ بھی جلد سمجھ آجائے گا۔

تاہم 5 جون کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے ملک بھر میں 5 جون کو عیداالفطر منائے جانے کے اعلان کے بعد فواد چوہدری یہ یاد کروانا نہیں بھولے کہ ’ہم نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ عید 5 جون کو ہوگی‘۔