سری لنکن صدر کا ایسٹر دھماکوں کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے ساتھ تعاون سے انکار

اپ ڈیٹ 08 جون 2019

ای میل

سری لنکن صدر انتہا پسندوں کی جانب سے ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ سیکیورٹی اجلاس کرنے میں ناکام ہوگئے — فائل فوٹو/رائٹرز
سری لنکن صدر انتہا پسندوں کی جانب سے ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ سیکیورٹی اجلاس کرنے میں ناکام ہوگئے — فائل فوٹو/رائٹرز

سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا نے اپنی کابینہ سے کہا ہے کہ ایسٹر پر ہونے والے خود کش حملے میں سیکیورٹی کی خامیوں کے حوالے سے کی جانے والی پارلیمانی تفتیش میں تعاون نہیں کریں گے۔

سری لنکن صدر نے جمعے کے روز کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا جس میں انہوں نے 21 اپریل کے حملوں کی تحقیقات کے لیے بننے والے پارلیمانی کمیٹی (پی ایس سی) کی مخالفت کی جس میں 258 افراد ہلاک اور 500 زخمی ہوگئے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ذرائع نے بتایا کہ میتھری پالا سری سینا نے تفتیش کے لیے پولیس اور فوج یا خفیہ ادارے کے کسی بھی اہلکار کو پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کرنے سے انکار کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا کے چرچ اور ہوٹلز میں بم دھماکے، 290 افراد ہلاک

ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ کابینہ کا اجلاس بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہوگیا اور جس میں حکومت پارلیمانی کمیٹی کو تحلیل کرنے پر راضی نہ ہوسکی۔

صدر کے آفس سے کابینہ کے اس ہنگامہ خیز اجلاس کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا لیکن کہا گیا کہ صدر نے اعلیٰ پولیس افسران کو کہا کہ وہ کسی حاضر سروس پولیس افسر کو پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

گذشتہ ہفتے سی سینا کے انٹیلی جنس چیف نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ صدر انتہا پسندوں کی جانب سے ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ سیکیورٹی اجلاس کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھیں: حکمرانوں کی چپقلش نے سری لنکا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا؟

سرکاری ذرائع کے مطابق کمیٹی کی کارروائی کے دوران، ان کی گواہی کے عمل کی لائیو ٹیلی کاسٹ کو صدر کے احکامات پر روک دیا گیا۔

سری سینا کے سیکریٹری دفاع اور پولیس چیف نے کہا کہ صدر میتھری پالا سری سینا، جو بذات خود وزیر دفاع اور وزیر امن و عامہ ہیں، انٹیلی جنس رپورٹس کے لیے باضابطہ طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کرتے، جس میں 21 اپریل کے دھماکوں کی پہلے سے جاری کی گئی وارننگ بھی شامل ہیں۔

تاہم سری لنکن صدر نے بارہا اس بات کی تردید کی کہ انہیں حملوں کے خطرے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا، انہوں نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ ان کے نیشنل پولیس چیف اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایسٹر حملوں سے 13 روز قبل ملاقات ہوئی تھی لیکن کسی افسر نے انہیں بھارت سے موصول ہونے والے خطرے کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے سری لنکا کو چند گھنٹے قبل حملے کے خطرے سے آگاہ کردیا تھا

حکام کے مطابق نئی دہلی نے بھارتی قید میں موجود ایک دہشت گرد کی اطلاع پر ان حملوں کی منصوبہ بندی کے بارے میں سری لنکا کو آگاہ کیا تھا۔

سری لنکن حکومت نے بھی حملوں سے قبل انٹیلی جنس کی ناکامی کا اعتراف کیا تھا جس میں 45 غیر ملکی بھی ہلاک ہوئے تھے۔