اسرائیل کو فلسطین کے تمام علاقوں پر قبضے کا اختیار نہیں، امریکا

اپ ڈیٹ 09 جون 2019

ای میل

امریکی صدر کا پیش کردہ منصوبہ فلسطین میں تشدد کو ہوا نہیں دے گا، امریکی سفارتکار—بشکریہ ٹوئٹر
امریکی صدر کا پیش کردہ منصوبہ فلسطین میں تشدد کو ہوا نہیں دے گا، امریکی سفارتکار—بشکریہ ٹوئٹر

امریکی سفارتکار نے کہا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی پٹی کے تمام علاقوں پر قبضے کا حق حاصل نہیں تاہم انہوں نے بعض علاقوں پر اسرائیل کا حق جائز قرار دیا ہے۔

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اسرائیل میں امریکی سفارتکار ڈیوڈ فرائڈمین نے کہا کہ مغربی پٹی پر کسی حد تک ’الحاق‘ جائز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی 'ڈیل آف دی سنچری'میں خودمختار فلسطینی ریاست شامل نہیں، رپورٹ

نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’موجودہ صورتحال کے پیش نظر، میرا خیال ہے کہ اسرائیل کو مغربی پٹی کے بعض علاقوں پر قبضے کا حق ہے لیکن تمام پر نہیں‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’دنیا اسرائیل اور اردن کے درمیان ناکام فلسطینی ریاست کی خواہاں ہے‘۔

امریکی سفارتکار نے مزید کہا کہ ’امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطینوں کی زندگی میں بہتری لانے کے خواہش مند ہیں لیکن مذکورہ پلان ’تنازعے کا مستقل حل‘ پیش نہیں کرسکے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے لیے ’صدی کا معاہدہ ‘ سے تعبیر کیے گئے امریکی معاہدے میں فلسطینیوں کی زندگی میں بہتری لانے کی تجاویز شامل ہیں لیکن اس میں محفوظ فلسطینی ریاست کا قیام شامل نہیں۔

مزیدپڑھیں: عرب ممالک اسرائیل کے خدشات دور کریں، عمان کا مطالبہ

امریکی سفارتکار کا کہنا تھا کہ ’انہیں یقین ہے کہ امریکی صدر کا پیش کردہ منصوبہ فلسطین میں تشدد کو ہوا نہیں دے گا‘۔

ڈیوڈ فرائڈمین نے واضح کیا کہ امریکا عرب اتحادی اردن کو لازمی طور مشاورت میں شامل کرے گا جہاں فلسطینیوں کی بڑی تعداد آباد ہے اور وہ ممکنہ طور پر منصوبے کی مخالفت کریں گے۔

خیال رہے کہ عالمی برادری مغربی پٹی میں اسرائیلی تسلط کو غیرقانونی اور پرامن حل کے لیے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہے۔

اس سے قبل 6 اپریل کو اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے کہا تھا کہ ‘عرب دنیا اسرائیل کی موجودگی پر اس کے حقوق کو تسلیم کرچکی ہے اور فلسطینی بھی ان کے حقوق کا اعتراف کرچکے ہیں، لیکن مسئلہ یہ نہیں ہے’۔

مزیدپڑھیں: اسرائیلی وزیر اعظم کا عمان کا خفیہ دورہ

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ مسئلہ قبضے کا ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا یہ قبضہ ختم ہونے جارہا ہے یا نہیں، اسرائیل کو عرب سرزمین سے دست بردار ہونا پڑے گا جس پر وہ 1967 سے قابض ہے اور فلسطینی ریاست کے وجود کی اجازت دینا ہوگی اور حقیقی مسئلہ یہی ہے’۔

ایمن الصفدی نے کہا تھا کہ ‘اگر اسرائیل یہ کہتا ہے کہ اسے سکون میسر نہیں تو یہ میرا مسئلہ نہیں ہے’۔