سانحہ ایسٹر تحقیقات: سری لنکن صدر نے انٹیلی جنس سربراہ کو برطرف کردیا

اپ ڈیٹ 09 جون 2019

ای میل

صدراتی دفتر نے برطرفی کی وجوہات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا
—فوٹو: رائٹرز
صدراتی دفتر نے برطرفی کی وجوہات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا —فوٹو: رائٹرز

سری لنکا کے صدر نے ایسٹر بم دھماکوں کی تحقیقات کے تنازع پر انٹیلی جنس ایجنسی کے چیف کو برطرف کردیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا نے اپنی کابینہ سے کہا تھا کہ ایسٹر پر ہونے والے خود کش حملے میں سیکیورٹی کی خامیوں کے حوالے سے کی جانے والی پارلیمانی تفتیش میں تعاون نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکن صدر کا ایسٹر دھماکوں کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے ساتھ تعاون سے انکار

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق سری لنکن انٹیلی جنس ایجنسی کے چیف سری سیرا مینڈس نے بیان دیا تھا کہ ایسٹر حملے روکے جا سکتے تھے جس میں تقریباً 45 غیرملکیوں سمیت 258 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

جس کے بعد سری لنکن صدر نے چیف کو جبری طور پر برطرف کردیا۔

گذشتہ ہفتے انٹیلی جنس چیف نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ صدر انتہا پسندوں کی جانب سے ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ سیکیورٹی اجلاس کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

صدراتی دفتر نے برطرفی کی وجوہات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

مزیدپڑھیں: سری لنکا کے چرچ اور ہوٹلز میں بم دھماکے، 290 افراد ہلاک

خیال رہے کہ سری لنکن صدر نے جمعے کو کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا جس میں انہوں نے 21 اپریل کے حملوں کی تحقیقات کے لیے بننے والے پارلیمانی کمیٹی (پی ایس سی) کی مخالفت کی تھی۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا تھا کہ میتھری پالا سری سینا نے تفتیش کے لیے پولیس اور فوج یا خفیہ ادارے کے کسی بھی اہلکار کو پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کرنے سے انکار کردیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق کمیٹی کی کارروائی کے دوران، ان کی گواہی کے عمل کی لائیو ٹیلی کاسٹ کو صدر کے احکامات پر روک دیا گیا۔

سری سینا کے سیکریٹری دفاع اور پولیس چیف نے کہا کہ صدر میتھری پالا سری سینا، جو بذات خود وزیر دفاع اور وزیر امن و عامہ ہیں، انٹیلی جنس رپورٹس کے لیے باضابطہ طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کرتے، جس میں 21 اپریل کے دھماکوں کی پہلے سے جاری کی گئی وارننگ بھی شامل ہیں۔

مزیدپڑھیں: بھارت نے سری لنکا کو چند گھنٹے قبل حملے کے خطرے سے آگاہ کردیا تھا

تاہم سری لنکن صدر نے بارہا اس بات کی تردید کی کہ انہیں حملوں کے خطرے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا، انہوں نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ ان کے نیشنل پولیس چیف اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایسٹر حملوں سے 13 روز قبل ملاقات ہوئی تھی لیکن کسی افسر نے انہیں بھارت سے موصول ہونے والے خطرے کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔