امریکا کا ایک مرتبہ پھر پاکستان پر بھارت سے تعلقات بہتر بنانے پر زور

10 جون 2019

ای میل

پلوامہ حملے کے بعد پاکستان نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز
پلوامہ حملے کے بعد پاکستان نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز

واشنگٹن: امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ خطے سے عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے ’پائیدار اور ٹھوس اقدامات‘ کر کے بھارت سے تعلقات بہتر بنائے جائیں۔

ایک جانب جہاں پاکستان اپنی مشرقی سرحدوں سے کشیدگی کم کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ مذاکرات کرنے کی نئے سرے سے کوشش کررہا ہے وہیں وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے واشنگٹن میں بھارتی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیے۔

خیال رہے کہ جب سے نریندر مودی دوبارہ منتخب ہو کر دوسری مرتبہ بھارت کے وزیراعظم بنے ہیں وزیراعظم عمران خان 2 خطوط نئی دہلی بھجوا چکے ہیں جس میں جنوبی ایشیا کی ایٹمی طاقتوں کے درمیان بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔

اپنے پہلے خط میں وزیراعظم نے اپنے بھارتی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان بھارت کے مطالبے پر دہشت گردی کے مسئلے پر بھی بات چیت کے لیے تیار ہے جبکہ دوسرے خط میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نہ صرف بھارت کے ساتھ تمام مسائل پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کرغزستان میں عمران خان اور نریندرمودی کی ملاقات شیڈول نہیں، ترجمان بھارتی وزارت خارجہ

تاہم بھارت نے نہ صرف پاکستان کی مذکرات کی پیشکش کو رد کردیا بلکہ شنگھائی تعاون تنطیم میں بھی پاکستانی اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات کو خارج از امکان قرار دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جب بھارتی صحافیوں نے اسلام آباد کی جانب سے امن کی پیشکش پر وائٹ ہاؤس سے تبصرہ کرنے کا کہا تو ان کا کہنا تھا کہ امریکا توقع کرتا ہے کہ پاکستان نہ صرف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے ان کےخلاف مقدمات چلائے گا بلکہ عسکریت پسندوں کو آزادی سے نقل و حرکت کرنے، ہتھیار حاصل کرنے اور حملے کرنے کے لیے بھارت میں داخل ہونے سے روکے گا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کو یقین ہے کہ جب تک ان عسکری گروہوں کو ختم نہیں کیا جائے گا اس وقت تک بھارت اور پاکستان کے لیے پائیدار امن کا حصول نہایت مشکل ہوگا۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کی انتخابات میں کامیابی پر نریندر مودی کو مبارکباد

قبل ازیں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کے بعد پاکستان نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں جبکہ پاکستان دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے بھی اقدامات کررہا ہے، ’ہم ان اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہیں‘۔

انہوں نے پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کی وجوہات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندی دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی سب سے اہم وجہ ہے۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا ’ہم یقینی طور پر ایسا ماحول تشکیل دینے کی حوصلہ افزائی کریں جس سے مذاکرات ہوسکیں‘۔


یہ خبر 10 جون 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔