وائٹ ہاؤس حکام ہواوے پر پابندی میں تاخیر کے خواہاں

10 جون 2019

ای میل

حکام کا کہنا ہے کہ کمپنی پر مکمل پابندی سے قبل انہیں 2 سال کا وقت دیا جائے۔
— فائل فوٹو/اے ایف پی
حکام کا کہنا ہے کہ کمپنی پر مکمل پابندی سے قبل انہیں 2 سال کا وقت دیا جائے۔ — فائل فوٹو/اے ایف پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اگست 2018 کو قومی دفاعی ایکٹ پر دستخط کیے جانے کے بعد سے سرکاری سطح پر ہواوے کی مصنوعات کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی تھی تاہم ایک سرکاری عہدیدار کا کہنا ہے کہ وفاقی کنٹریکٹرز چینی کمپنی کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے مینیجمنٹ اور بجٹ کے دفتر کے نگراں ڈائریکٹر رسل ٹی وو نے ہواوے پر مکمل پابندی کیے جانے سے قبل کمپنی کو 2 سال کا وقت دینے کی درخواست کی ہے۔

مزید پڑھیں: 'ہواوے پر پابندی خود امریکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے'

رپورٹ کے مطابق انہوں نے 4 جون کو نائب صدر مائیک پینس اور کانگریس کے 9 اراکین کو خط لکھا تھا اور کہا تھا کہ پابندی سے حکومت کو اشیا فراہم کرنے والی کمپنیوں میں بھی کمی سامنے آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں ہواوے کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی کمپنیاں جنہیں وفاق گرانٹ اور لونز فراہم کرتا ہے، پر بھی اثر پڑے گا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی یہ درخواست ہواوے کو امریکا میں کاروبار کرنے کی اجازت نہ دینے کی پالیسی کے خلاف نہیں جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ہواوے روس میں 5 جی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لیے تیار

ترجمان کا کہنا تھا کہ 'یہ صرف حکومت کے ساتھ کاروبار کرنے والی یا وفاقی گرانٹ اور قرضے حاصل کرنے والی کمپنیوں کے ہواوے اور دیگر چینی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے ہے'۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے احکامات جاری کرتے ہوئے ہواوے پر پابندی عائد کی تھی۔

بعد ازاں گوگل، فیس بک اور دیگر امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے چینی کمپنی سے تعلقات ختم کرلیے تھے۔

ہواوے اور دیگر وائٹ ہاؤس کے دفتر برائے مینیجمنٹ اور بجٹ نے معاملے پر فوری طور پر رائے دینے سے انکار کردیا ہے۔