وفاقی بجٹ: زراعت کے لیے 280 ارب روپے کے 5 سالہ پروگرام کا آغاز

اپ ڈیٹ 12 جون 2019

ای میل

گندم، چاول، گنے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے 44.8 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ — فائل فوٹو/رائٹرز
گندم، چاول، گنے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے 44.8 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ — فائل فوٹو/رائٹرز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے صوبائی حکومتوں سے مل کر زرعی شعبے کے لیے 280 ارب روپے کا 5 سالہ پروگرام شروع کرنے کی تجویز دی ہے۔

وزیر مملکت برائے ریونیو نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت پانی سے زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لیے پانی کا انفراسٹرکچر بنایا جائے گا اور اس کے تحت 218 ارب روپے کے منصوبوں پر کام ہوگا، گندم، چاول، گنے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے 44.8 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی بجٹ: چینی ، خوردنی تیل، سیمنٹ مہنگی

انہوں نے کہا کہ کیکڑے اور ٹھنڈے پانی کی ٹراؤٹ مچھلی کی فارمنگ کے منصوبوں کے لیے 9.3 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے، گھریلو مویشی کے پالنے کے لیے 5.6 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ زرعی ٹیوب ویلوں پر 6.85 روپے فی یونٹ کے حساب سے رعایتی نرخ فراہم کیے جائیں گے۔

حماد اظہر نے کہا کہ زراعت صوبائی محکمہ ہے تاہم اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور اس میں ترقی کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے تجویز کیے جارہے ہیں جبکہ صحت، تعلیم، ترقیاتی اہداف کا حصول، موسمیاتی تبدیلی اہم ترجیحات ہیں۔

مزید پڑھیں: مالی سال 20-2019 کیلئے 70 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے کسانوں سے 10 ہزار روپے ماہانہ بل وصول کیا جاتا ہے اور 75 ہزار تک کا اضافی بل صوبائی اور وفاقی حکومتیں برداشت کرتی ہیں، چھوٹے کسانوں کے فصل خراب ہونے کی صورت میں نقصان کی تلافی کے لیے انشورنس اسکیم متعارف کرائی جارہی ہے جس کے لیے 2.5 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

مالی سال 18-2017 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ کسانوں کے لیے قرضوں کا حجم ایک ہزار ایک ارب روپے مقرر کیا گیا اور یکم جولائی 2017 سے شروع ہونے والے مالی سال سے 9.9 فیصد سالانہ کی شرح سے زرعی قرضے ملیں گے، انہوں نے مزید کہا تھا کہ زرعی قرضوں کا حجم ترقیاتی حجم کے برابر کیا گیا، فی کسان 50 ہزار روپے تک قرضہ دیا جائے گا جبکہ زرعی مشینری پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ختم کی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ مالی سال 19-2018 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 18-2017 کے دوران دی جانے والی مراعات کو جاری رکھا جائے گا، بجٹ میں جن مراعات کا اعلان کیا گیا تھا ان میں زرعی سود کی کمی، زرعی درجہ جات کی حد میں اضافہ، ہارویسٹر پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ، سورج مکھی اور کینولا کے بیج کی در آمد پر خاتمے جیسے اقدامات شامل تھے۔