سوڈان: مظاہرین پر فوج کا تشدد، عالمی تحقیقاتی کونسل بنانے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 12 جون 2019

ای میل

سوڈان میں کئی روز سے حکومت مخالف احتاج کا سلسلہ جاری تھا—فائل فوٹو بشکریہ الجزیرہ
سوڈان میں کئی روز سے حکومت مخالف احتاج کا سلسلہ جاری تھا—فائل فوٹو بشکریہ الجزیرہ

اقوام متحدہ کے ماہرین نے سوڈان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پُر امن مظاہرین پر تشدد کی تحقیقات کے لیے ہیومن رائٹس کونسل تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اقوام متحدہ کے پانچ ماہرین نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ سوڈان انسانی حقوق کے بحران سے گزر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سوڈان: عوام نے فوجی حکومت کو بھی مسترد کردیا

خیال رہے کہ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں مسلح افواج اور احتجاجی مظاہرین کی جھڑپوں میں 100 سے زائد ہلاکتوں کے بعد احتجاجی گروپ سوڈانی پروفیشنل ایسوسی ایشن (ایس پی اے) نے سول نافرمانی کا اعلان کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا کہ ’آزاد تحقیقات‘ کے لیے اقوام متحدہ رائٹس کونسل تشکیل دیا جائے جو 24 جون کو اپنا پہلا سیشن شروع کرے۔

واضح رہے کہ ماہرین اقوام متحدہ انسانی حقوق کے آزاد ماہرین ہیں تاہم ان کا مطالبہ اقوام متحدہ کے موقف کی ترجمانی نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں: سوڈان میں فوجی بغاوت، صدر عمر البشیر گرفتار

گزشتہ روز (11 جون کو) سوڈان میں فوج کی جانب سے اقتدار سول حکومت کو منتقل نہ کرنے پر جاری احتجاج کے مظاہرین نے فوج سے مذاکرات کرنے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

ایتھوپیا کے وزیر اعظم آبی احمد کے دورے کے بعد مظاہرین اور فوج کے درمیان ثالثی مشن کے لیے نمائندہ خصوصی محمود دِریر کا کہنا تھا کہ 'آزادی اور تبدیلی اتحاد نے سول نافرمانی مہم کے خاتمے کا پر رضامندی کا اظہار کیا ہے'۔

سوڈان میں ہو کیا رہا ہے؟

رواں سال 11 اپریل کو سوڈان کی فوج نے ملک میں جاری مظاہروں کے باعث 30 سال سے برسر اقتدار صدر عمر البشیر کو برطرف کرکے گرفتار کرلیا تھا اور اقتدار بھی سنبھال لیا تھا۔

وزیر دفاع نے ملک میں 2 سال کے لیے فوجی حکمرانی کا اعلان کرتے ہوئے سول جمہوری تبدیلی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو مشتعل ہونے سے روکنے کے لیے ایمرجنسی بھی نافذ کردی تھی۔

تاہم سوڈان کے وزیر دفاع جنرل عود ابن عوف نے 12 اپریل کو ملٹری کونسل کے سربراہ کے طور پر حلف اٹھایا تھا تاہم وہ اگلے ہی دن عہدے سے دستبردار ہوگئے تھے جس کے بعد 13 اپریل کو جنرل عبدالفتح برہان نے حلف اٹھایا۔

مزیدپڑھیں: سوڈان میں 29 سال سے قائم صدارت کو خطرہ، ہزاروں افراد کا احتجاج

فوج کی جانب سے صدر عمر البشیر کا تختہ الٹنے پر ہزاروں مظاہروں نے دارالحکومت خرطوم کے وسط کی طرف مارچ کیا تھا اور صدر کی برطرفی کی خوشیاں منائی تھیں۔

عود محمد ابن عوف نے کہا تھا کہ فوج، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بنائی جانے والی ملٹری کونسل آئندہ 2 سال تک حکومت کرے گی جس کے بعد ’ شفاف اور منصفانہ انتخابات کروائے جائیں گے‘۔

انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ فوج نے آئین معطل کردیا، حکومت تحلیل کردی اور 3 ماہ کے لیے ایمرجنسی بھی نافد کردی، تاہم صدر عمرالبشیر کی برطرفی کے بعد فوجی نظام سنبھالنے پر بھی مظاہرین نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔

احتجاج کرنے والے رہنماؤں نے صدر کی برطرفی کے بعد تشکیل دی گئی ملٹری کونسل کو بھی مسترد کردیا تھا۔

مظاہرین نے ملک میں جمہوری نظام کے نفاذ کے لیے سول قیادت اور سوڈان میں جاری تنازعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا جن کی وجہ سے ملک بدترین غربت کا شکار ہے۔

مزیدپڑھیں: سوڈان: حکومت کے خلاف اپوزیشن، ڈاکٹرز کا شدید احتجاج

تاہم 4 جون کو سیکیورٹی فورسز نے ملٹری ہیڈکوارٹرز کے باہر جمع مظاہرین پر فائر کھول دیئے تھے، جس میں ابتدائی طور پر 30 افراد ہلاک ہوئے۔

8 جون کو سوڈان کے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دارالحکومت خرطوم میں دریائے نیل سے 40 لاشیں نکالی گئیں جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کے مظاہرین پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 100 بتائی گئی۔