نیب قوم اور عدالت کا وقت ضائع کر رہی ہے، شہباز شریف

ای میل

شہباز شریف کے مطابق نیب نے بخدا فراڈ کیس بنایا، انہوں نے قوم کی خدمت کی ہے — فوٹو: ڈان نیوز
شہباز شریف کے مطابق نیب نے بخدا فراڈ کیس بنایا، انہوں نے قوم کی خدمت کی ہے — فوٹو: ڈان نیوز

لاہور کی احتساب عدالت نے آشیانہ ریفرنس میں آئندہ سماعت پر گواہوں کو طلب کرلیا اور رمضان شوگر مل ریفرنس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کو 26 جون کو حمزہ شہباز شریف کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

احتساب عدالت میں آشیانہ ریفرنس اور رمضان شوگر مل ریفرنس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف عدالت میں پیش ہوئے۔

جج نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ حمزہ شہباز کو آج کیوں پیش نہیں کیا گیا، جس پر نیب کے وکیل نے بتایا کہ رمضان شوگر مل کیس میں حمزہ شہباز جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہیں۔

مزید پڑھیں: رمضان شوگر ملز ریفرنس: شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد

جس پر عدالت نے نیب کو آئندہ سماعت پر حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

شہباز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے — فوٹو: ڈان نیوز
شہباز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے — فوٹو: ڈان نیوز

دوران سماعت شہباز شریف روسٹرم پر آئے، جس پر جج نے استفسار کیا کہ کیا آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے بخدا فراڈ کیس بنایا ہے، 'میں نے قوم کی خدمت کی ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ آشیانہ کیس جھوٹ پر مبنی ہے، نیب قوم اور عدالت کا وقت ضائع کر رہی ہے، تمام کیس جھوٹ پر مبنی ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے شہباز شریف کو کیس میں حاضری لگا کر جانے کی اجازت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: شہباز شریف ودیگر پر فرد جرم عائد

احتساب عدالت نے آشیانہ ریفرنس میں گواہوں کو طلب کرتے ہوئے سماعت 29 جون تک ملتوی کر دی جبکہ عدالت نے رمضان شوگر مل ریفرنس میں 26 جون کو حمزہ شہباز شریف کو پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

11 جون کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمات میں گرفتار کرلیا تھا۔

شہباز شریف، فواد حسن فواد کی ضمانت منسوخی کیس کا بینچ ٹوٹ گیا

علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور فواد حسن فواد کی ضمانت منسوخ کرنے کے معاملے میں جسٹس یحیی آفریدی نے بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کر لی۔

جسٹس یحیی آفریدی کا کہنا تھا کہ فواد حسن فواد میرے جاننے والے ہیں، کیس نہیں سن سکتا۔

خیال رہے کہ جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کرنا تھی۔

جسٹس یحیی آفریدی کے اعلان کے بعد شہباز شریف اور فواد حسن فواد کی ضمانت منسوخ کرنے سے متعلق کیس کا بینچ ٹوٹ گیا، نئے بینچ کی تشکیل کے بعد دوبارہ سماعت ہوگی۔

آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل

واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے متنازع آشیانہ ہاؤسنگ منصوبے کا 2010 میں آغاز کیا گیا تھا۔

شہباز شریف پر الزام عائد ہے کہ انہوں نے ہاؤسنگ اسکیم کے کنٹریکٹ کی نیلامی میں کامیاب ہونے والے چوہدری لطیف اینڈ سنز کا کنٹریکٹ منسوخ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے جس کے بعد یہ کنٹریکٹ پیراگون سٹی پرائیوٹ لمیٹڈ کی پروکسی کمپنی لاہور کاسا ڈویلپز کو دیا گیا تھا اور اس سے قومی خزانے کو 19 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا تھا۔

ان پر پنجاب کی لینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی (پی ایل ڈی سی) کو آشیانہ اقبال منصوبے کو لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو دینے کی ہدایات دینے کا بھی الزام ہے جنہوں نے لاہور کاسا ڈیولپرز کو یہ کنٹریکٹ فراہم کیا اور اس سے قومی خزانے کو 71 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان ہوا جس کے بعد یہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہوگیا۔

نیب کی جانب سے شہباز شریف پر آشیانہ اقبال منصوبے کے کنسلٹنسی سروس کنٹریٹ کو 19 کروڑ 20 لاکھ روپے میں انجینیئرنگ کنسلٹنسی سروسز پنجاب کو فراہم کرنے کی پی ایل ڈی سی کو ہدایت کرنے کا بھی الزام لگایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ معروف کنسلٹنسی کمپنی نیسپاک کی جانب سے اس کام کے لیے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے کی بولی لگائی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: نیب نے حمزہ شہباز کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا

عدالت نے آج کیس میں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد اور دیگر پر بھی فرد جرم عائد کردی۔

نیب کے مطابق فواد حسن فواد نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ منصوبے میں سیکریٹری کے خدمات انجام دیتے ہوئے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا تھا۔

نیب کی جانب سے کیس میں سابق ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی احد چیمہ کو بھی گرفتار کیا تھا، دیگر گرفتار افراد میں بلال قدوانی، امتیاز حیدر، شاہد شفیق، سردار سعید اور عارف بٹ شامل ہیں۔

رمضان شوگر ملز کیس

واضح رہے کہ 18 فروری کو قومی احتساب بیورو نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے رکن صوبائی اسمبلی حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس میں نیا ریفرنس دائر کیا تھا۔

اس ریفرنس میں صرف دونوں ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ رمضان شوگر ملز کے لیے انہوں نے غیر قانونی طور پر نالہ تعمیر کروایا۔

عدالت میں دائر ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی جانب سے اس نالے کی تعمیر سے قومی خزانے کو 21 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، لہٰذا دونوں ملزمان کو سزا دی جائے۔