'افسوس کے ساتھ کہہ رہا ہوں، کراچی بدترین شہر بن چکا ہے'

اپ ڈیٹ 13 جون 2019

ای میل

عدالت نے دوران سماعت سندھ حکومت کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا — فائل فوٹو/ اے ایف پی
عدالت نے دوران سماعت سندھ حکومت کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا — فائل فوٹو/ اے ایف پی

اسلام آباد: امل قتل کیس کی سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ افسوس کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ کراچی، پاکستان کا بدترین شہر بن چکا ہے، یہاں کوئی حکومت نہیں، پہلے ہم گھر سے دور جا کر کھیلتے تھے لیکن آج شہر میں ہمارے بچے گھر سے نکل بھی نہیں سکتے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے امل عمر قتل کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت امل عمر کے والدین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ میں پولیس، ریگولیٹر اور ہسپتال پر ذمہ داری کا تعین ہونا تھا، رپورٹ پر عمل کرتے ہوئے سندھ پولیس کو پٹرولنگ میں بھاری اسلحہ کے استعمال سے روک دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے رپورٹ میں غلطی کو تسلیم کیا ہے۔

مزید پڑھیں: امل ہلاکت کیس: معذرت چاہتا ہوں کہ اس معاملے کو ختم نہیں کرسکا، چیف جسٹس

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس کا زیادہ پس منظر نہیں جانتے، غلطی ماننا تو ٹھیک لیکن کیا اسلحے کے استعمال سے روکنا کراچی جیسے شہر میں ٹھیک ہو گا۔

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ کیا حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کراچی میں اسلحے کے استعمال سے پولیس کو روکا جا سکتا ہے، جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دنیا کے کئی ممالک میں پٹرولنگ پولیس کو مشین گنز جیسا اسلحہ نہیں دیا جاتا۔

سندھ حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عدالت میں اس اہم معاملے پر اپنا موقف دینا چاہتا ہوں۔

دوران سماعت سندھ حکومت کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت کے پاس تو کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا، آپ بات مت کریں، سندھ حکومت کا حال تو بہت برا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امل ہلاکت کیس: تحقیقاتی کمیٹی نے پولیس رپورٹ کے جائزے کےلیے مہلت مانگ لی

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ افسوس کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ کراچی، پاکستان کا بدترین شہر بن چکا ہے، کراچی میں کوئی حکومت نہیں، پہلے ہم گھر سے دور جا کر کھیلتے تھے لیکن آج شہر میں ہمارے بچے گھر سے نکل بھی نہیں سکتے۔

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ کل کراچی میں دن دہاڑے ڈکیتی ہوئی اور بھرے بازار میں گاڑی روک کر 90 لاکھ روپے لوٹ لیے گئے۔

جسٹس گلزار احمد نے مزید ریمارکس دیئے کہ سڑک کے درمیان میں گاڑیوں کو لوٹا جا رہا ہے، کراچی شہر میں تو مفرور کھلے عام گھوم رہے ہیں، یہ مفرور سنجیدہ نوعیت کے جرائم میں ملوث ہیں، پولیس ان مفرورں کو پکڑ نہیں سکتی۔

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ جو ترقی کراچی میں ہوئی تھی اب ختم ہو رہی ہے، افسران کو تو بس پیسے جمع کرنے ہیں اور عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی: مقابلے کے دوران پولیس کی فائرنگ سے ڈیڑھ سالہ بچہ جاں بحق

جسٹس گلزار احمد نے ہدایت کی کہ فریقین اپنی معروضات 4 ہفتوں میں تحریری طور پر جمع کروادیں اور معروضات کے ساتھ قانونی پوزیشن بھی بتائی جائے، اگر قانون اجازت دے گا تو معروضات پر عمل کا حکم دیں گے۔

عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد مقرر کرنے کی ہدایت کی۔

امل عمر قتل کیس

خیال رہے کہ گذشتہ سال ماہ اگست میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے کے دوران امل عمر کو گولی لگی تھی۔

بعد ازاں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ جاوید عالم اوڈھو نے اعتراف کیا تھا کہ امل عمر کو لگنے والی گولی پولیس اہلکار کی جانب سے فائر کی گئی تھی۔

امل عمر کو گولی لگنے کے بعد ان کے والدین نے انہیں نیشنل میڈیکل سینٹر (این ایم سی) منتقل کیا تھا جہاں طبی امداد دینے سے انکار کیا گیا جس کے بعد وہ دم توڑ گئی تھی۔

مقتولہ کی والدہ بینش عمر نے بتایا تھا ہسپتال انتظامیہ نے انہیں بچی کو جناح ہسپتال یا آغا خان ہستپال منتقل کرنے کو کہا تھا اور این ایم سی نے امل کو منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس دینے سے بھی انکار کردیا تھا حالانکہ بچی کے سر پر زخم تھے۔

اس واقعے کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے مبینہ پولیس مقابلے کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق ہونے والی 10 سالہ امل عمر کے واقع کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: مبینہ پولیس مقابلے میں بچے کی ہلاکت کا مقدمہ درج، 4 اہلکار گرفتار

ازخود نوٹس کی سماعت کی پہلی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ نجی ہسپتالوں کے لیے بھی کوئی ایس او پی ہونا چاہیے، کوئی ہرجانہ بچی کو واپس نہیں لا سکتا، ایسا لگا جیسے ہماری بچی ہم سے جدا ہوگئی، ایک بچی چلی گئی لیکن باقی بچیاں تو بچ جائیں۔

بعد ازاں عدالت نے امل کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے کے لیے سابق جسٹس خلجی عارف کی سربراہی میں 7 رکنی کمیٹی قائم کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں رپورٹ طلب کی تھی۔