موبائل فون پر ٹیکس سلیب میں تبدیلی، درآمد پر اب کتنی رقم ادا کرنا ہوگی؟

اپ ڈیٹ 15 جون 2019

ای میل

ترمیمی بل میں 4 ٹیکسز کو ایک فکسڈ ریٹ میں ضم کردیا گیا تھا— فائل فوٹو/رائٹرز
ترمیمی بل میں 4 ٹیکسز کو ایک فکسڈ ریٹ میں ضم کردیا گیا تھا— فائل فوٹو/رائٹرز

اسلام آباد: حکومت نے موبائل فونز کی درآمدی قیمت کے حوالے سے 6 مختلف سلیبس کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ 20-2019 میں موبائل فون پر فلیٹ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا، اس اقدام سے زائد قیمتوں کے مقابلے میں سستے موبائل پر کم ٹیکس ہوگا۔

فنانس سپلیمنٹری (دوسرا ترمیمی) بل 2019 میں موبائل فون کی درآمد موثر بنانے کے لیے 12 مارچ سے تمام 4 ٹیکسز ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور موبائل لیوی کو ایک سنگل فکسڈ ریٹ (مقررہ شرح) میں ضم کردیا تھا۔

اس تناظر میں 30 ڈالر کی قیمت تک کے موبائل فون کی درآمد پر فکسڈ ریٹ 180 روپے سے بڑھ گیا ہے اور اب 360 کے فلیٹ ریٹ چارج کیے جائیں گے جبکہ 500 ڈالر سے زائد مالیت کے موبائل فون کی درآمد پر 18 ہزار 500 روپے کے موجودہ ریٹ کے بجائے 36 ہزار 900 روپے فی سیٹ ادا کرنے ہوں گے۔

مارچ سے قبل 60 ڈالر تک مالیت کے موبائل فون پر درآمدی مرحلے میں 250 روپے فی سیٹ ٹیکس لگتا تھا جبکہ 60 سے 130 ڈالر کے درمیان موبائل فون کے لیے اس کی درآمدی قیمت کا 10 فیصد جبکہ 130 ڈالر سے زائد پر 20 فیصد ٹیکس ہوتا تھا۔

مزید پڑھیں: موبائل فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے 6 سلیب متعارف

تاہم حکومت سمجھتی ہے کہ فلیٹ ریٹس میں تبدیلی درآمدی مرحلے میں موبائل فون کی منصفانہ تشخیص تخمینہ کی سہولت فراہم کرنے کے علاوہ درآمدات سے زیادہ سے زیادہ وصولی حاصل کرنے میں مدد دے گی۔

اسی طرح حکومت نے ڈیوٹی فری اور مسافروں کے سامان کے ذریعے ملک میں موبائل فون لانے اور ان کی مارکیٹ میں فروخت سے متعلق رپورٹس کے بعد موبائل فونز کے لیے سخت قوانین متعارف کروائے۔

مقررہ شرح میں تجویز کردہ اضافے کے مطابق 30 سے 100 ڈالر کے درمیان کی درآمدی مالیت رکھنے والے موبائل فونز پر 1800 روپے کے موجودہ ریٹ کے مقابلے میں 3600 روپے فی سیٹ چارج کیے جائیں گے جبکہ 100 سے 200 ڈالر کے درمیان مالیت کے موبائل فون کی درآمد پر مقررہ شرح 2700 سے بڑھا کر 5400 روپے فی سیٹ ہوگی۔

ان فونز کے لیے جن کی مالیت 350 ڈالر فی سیٹ سے کم لیکن 200 ڈالر سے زیادہ ہے اس پر 3600 روپے کی موجودہ ریگولیٹری ڈیوٹی کے مقابلے میں 7200 روپے فی سیٹ چارج کیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں 350 سے 500 ڈالر مالیت کے موبائل فون پر موجودہ 10 ہزار 500 روپے کے مقابلے میں 20 ہزار 700 روپے کے فلیٹ ریٹ چارج کیے جائیں گے جبکہ اگر موبائل فون کی درآمدی مالیت 500 ڈالر سے زائد ہے تو اس پر 18 ہزار 500 روپے کے بجائے اب 36 ہزار 900 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی دینا ہوگی۔

واضح رہے کہ 18-2017 میں پاکستان میں موبائل فونز کی قانونی درآمدی مالیت 84 کروڑ 76 لاکھ 56 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

اس سے قبل جب چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے تحت ڈیوٹی فری یا دیگر ممالک سے بہت معمولی ڈیوٹی کے اطلاق پر یہ درآمدات 1 ارب ڈالر کے نشان کو تجاوز کرگئی تھی۔

تاہم حکومت کی جانب سے ڈیوٹی اسٹرکچر میں تبدیلی اور موبائل فون کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کے بعد کُل قانونی درآمدات میں کمی جبکہ اسمگل شدہ درآمدات میں اضافہ ہوا۔

قبل ازیں مئی 2018 میں پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں غیر معیاری، اسمگل اور استعمال شدہ فونز کے خلاف کارروائی کے لیے ڈیوائس کی تصدیق، رجسٹریشن اور بند کرنے کا نظام متعارف کروایا تھا۔

دوسری جانب مقامی اسمبلنگ کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے حکومت نے موبائل فون کٹس اور پارٹس پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو معقول بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غیر رجسٹرڈ موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ

اس وقت سی کے ڈی/ایس کے ڈی حالت میں موبائل فون پر ہر کٹ کی مالیت کے حساب سے مخصوص شرح پر ریگولیٹری ڈیوٹی ہے۔

تاہم موبائل فون پارٹس پر کوئی ریگولیٹری ڈیوٹی نہیں ہے، موبائل فون مینوفکچررز موبائل فون کی سی کے ڈی اور ایس کے ڈی کٹس کو الگ الگ کنسائنمنٹس میں درآمد کرتے ہیں اور انہیں موبائل فون کے پارٹس قرار دیتے ہیں تاکہ ریگولیٹری ڈیوٹی سے بچا جاسکے۔

اسی تناظر میں مقامی اسمبلنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے کٹس پر موجودہ ریگولیٹری ڈیوٹی ہٹادی گئی اور کٹس اور پارٹس دونوں پر 5 فیصد کا یونیفارم ریٹ عائد کیا گیا ہے۔


یہ خبر 15 جون 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی