رواں مالی سال: 11 ماہ میں ترسیلات زر 10 فیصد بڑھ کر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں

اپ ڈیٹ 15 جون 2019

ای میل

ترسیلات زر میں ملائیشیا  سب سے بڑا ذریعہ بن کر سامنے آیا—فوٹو: شٹر اسٹاک
ترسیلات زر میں ملائیشیا سب سے بڑا ذریعہ بن کر سامنے آیا—فوٹو: شٹر اسٹاک

کراچی: مالی سال 2019 کے جولائی سے مئی کے عرصے میں پاکستان میں 20 ارب 19 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جو گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 10.4 فیصد زیادہ ہے۔

بیرون ملک سے آنے والی ان ترسیلات زر میں ملائیشیا ایک ارب 43 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا ذریعہ بن کر سامنے آیا اور اس میں گذشتہ سال کے اسی عرصے کی نسبت 37 فیصد اضافہ ہوا۔

رقوم کی بات کریں تو متحدہ عرب امارات ترسیلات زر کے لیے دوسری سب سے بڑی مارکیٹ کے طور پر سامنے آیا اور وہاں مقیم بیرون ملک پاکستانیوں نے 11 ماہ کے دوران 4 ارب 26 کروڑ 30 لاکھ ڈالر بھیجے جو 6.2 فیصد کی ترقی ہے۔

مزید پڑھیں: ترسیلات زر میں 8.45 فیصد اضافہ، 17 ارب ڈالر سے متجاوز

اسی دوران سعودی عرب سے آنے والی ترسیلات زر 4 ارب 66 کروڑ 90 لاکھ ڈالر پر رہیں اور گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں موصول ترسیلات کے مقابلے میں 3.2 فیصد اضافہ ہوا۔

ساتھ ہی امریکا سے آنے والی ترسیلات زر میں بھی گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 21.5 فیصد تک اضافہ ہوا اور یہ 3 ارب 13 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔

اس کے علاوہ برطانیہ سے آنے والی رقوم میں بھی مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران 19.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 3 ارب 14 کروڑ ڈالر رہی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان

مالی سال کے دوران پاکستان کو جی سی سی ممالک سے ایک ارب 95 کروڑ 50 لاکھ ڈالر بھی موصول ہوئے لیکن اس کی ترقی منفی رہی اور گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اس میں 1.96 فیصد کمی آئی۔

علاوہ ازیں یورپین یونین ممالک سے بھی ترسیلات زر میں 6.6 فیصد کا منفی رجحان دیکھنے میں آیا جبکہ اس عرصے میں 55 کروڑ 60 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔


یہ خبر 15 جون 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی