شانگلہ: 20 برس میں پہلا پولیو کیس سامنے آگیا

اپ ڈیٹ 16 جون 2019

ای میل

پولیو کیس سامنے آنے پر تحقیقات ٹیم تشکیل دے دی گئی — فائل فوٹو/اے ایف پی
پولیو کیس سامنے آنے پر تحقیقات ٹیم تشکیل دے دی گئی — فائل فوٹو/اے ایف پی

مالاکنڈ ڈویژن کے ضلع شانگلہ میں گذشتہ 2 دہائی میں پہلی مرتبہ پولیو کا کیس سامنے آیا ہے۔

ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے بتایا گیا کہ دریائے سندھ سے متصل دیدل کمچ نامی علاقے میں 18 ماہ کا بچہ پولیو کے مرض کا شکار ہوا۔

مزید پڑھیں: ملک میں رواں سال پولیو وائرس کا چھٹا کیس سامنے آگیا

انسداد پولیو ٹیم (ای پی آئی) کے ضلعی رابطہ کار ڈاکٹر واجد خان نے بتایا کہ پہلے مقامی افراد نے پولیو کیس کے بارے میں بتایا اور بعد ازاں ای پی آئی کی ٹیم نے اس کی تصدیق کی۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ علاقہ ضلع بونیر اور تورغر سے متصل ہے جو ضلع شانگلہ کی سرحد پر واقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ بچے کا نام علی شیر ہے اور یہ گذشتہ 20 برسوں میں پہلا پولیو کا کیس ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: پولیو ٹیم پر حملہ، ایک اور پولیس اہلکار قتل

ضلعی ہیلتھ افسر ڈاکٹر محمد ریاض خان نے ڈان کو بتایا کہ متاثرہ بچے کو پولیو مہم کے دوران قطرے نہیں پلائے گئے اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دی جاچکی ہے۔

علاوہ ازیں مقامی یونین کونسل میں جرگہ بلایا گیا جس میں علاقے کی اہم شخصیات اور پولیس نے بھی شرکت کی۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے اہم شخصیات نے کہا کہ علاقے میں پولیو ٹیم کو رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے ہر شخص اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے پر آمادہ ہے۔

مزید پڑھیں: پولیو ٹیمز پر حملے، ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم معطل

سماجی رکن عبید اللہ خان نے بتایا کہ علاقہ مکینوں نے ہمیشہ ای پی آئی کے عملے کے ساتھ انسداد پولیو مہم میں تعاون کیا۔