نواز شریف کی طبی حالت درست ہے، جیل سپرنٹنڈنٹ اور میڈیکل افسر کا جواب جمع

اپ ڈیٹ 17 جون 2019

ای میل

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی العزیزیہ/ہل میٹل ریفرنس میں طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور میڈیکل افسر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنا جواب جمع کروادیا۔

عدالت میں جمع کروائے گئے جواب کے ساتھ نواز شریف کی روزانہ کی بلڈ پریشر اور شوگر رپورٹ سمیت انہیں دی جانے والی ادویات کی لسٹ بھی منسلک کی گئی۔

مذکورہ جواب میں میڈیکل افسر نے رائے دی کہ موجودہ علاج کے دوران نواز شریف کی طبی حالت درست ہے، سابق وزیر اعظم کو ای سی جی کروانے کا کہا لیکن انہوں نے انکار کردیا۔

مزید پڑھیں: العزیزیہ ریفرنس: نواز شریف کی سزا معطل کرنے کی درخواست، نیب نے مخالفت کردی

میڈیکل افسر کے جواب کے مطابق نواز شریف کو ذیابیطس اور دل سے متعلق ٹیسٹ کروانا بھی تجویز کیا گیا۔

عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں بتایا گیا کہ نواز شرف کو شوگر، بلڈ پریشر اور دل کی بیماری ہے، 2011 اور 2016 کے درمیان ان کا بائی پاس ہوا جبکہ 2001 اور 2017 میں شریانوں میں اسٹنٹ ڈالے گئے۔

ساتھ ہی جیل سپرنٹنڈنٹ نے عدالت سے استدعا کی نواز شریف کی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹائی جائے۔

خیال رہے کہ 15 جون کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے بھی سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سزا معطل کرنے سے متعلق دائر درخواست پر اپنا جواب جمع کروایا تھا۔

عدالت میں نیب کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں اس درخواست کو فوری مسترد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ’نہ ہی برقرار رکھنے کے قابل ہے نہ یہ اس کا جواز ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور،کوٹ لکھپت جیل سے رہا

نیب نے جواب میں کہا تھا کہ نواز شریف کی صحت قید کے دوران خراب نہیں ہوئی اور وہ ’مستحکم حالت‘ میں ہیں، ’نہ ہی ان کی کوئی فوری سرجری کی تجویز دی گئی ہے جبکہ میڈیکل رپورٹ بھی اس بات کی طرف اشارہ نہیں کرتی کہ درخواست گزار کی جان کو کوئی خطرہ ہے‘۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے گزشتہ برس 24 دسمبر کو العزیزیہ اسٹیل ملز کمپنی اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی اور ان پر ڈیڑھ ارب روپے اور ڈھائی کروڑ ڈالر کے جرمانے عائد کیے تھے، جس کے بعد 3 مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف اس وقت کوٹ لکھپت جیل لاہور میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

نواز شریف کی جانب سے جنوری میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی سزا کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ احتساب عدالت کے فیصلے میں غلطیوں کے ساتھ قانونی خامیاں ہیں، ساتھ ہی انہوں نے اپنی سزا کو معطل کرنے کی درخواست بھی دائر کی تھی۔