ریاستی اداروں کےخلاف نفرت آمیز مواد، لیگی یوتھ ونگ کا صدر گرفتار

18 جون 2019

ای میل

ولید آصف بٹ کے اس طرح کے اقدام سے ہماری دل آزاری ہوئی ہے، شکایت کنندہ—فوٹو: اقبال مرزا
ولید آصف بٹ کے اس طرح کے اقدام سے ہماری دل آزاری ہوئی ہے، شکایت کنندہ—فوٹو: اقبال مرزا

گوجرانوالہ: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ یوتھ ونگ پنجاب کے صدر کو اعلیٰ عدلیہ، فوج اور وزیراعظم کے بارے میں سوشل میڈیا پر نازیبا زبان استعمال کرنے کے الزام میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا۔

اس حوالے سے ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر آصف اقبال نے بتایا کہ گوجرانوالہ میں امیر حمزہ نامی شہری نے حمزہ یوتھ ونگ پنجاب کے صدر ولید آصف بٹ کے خلاف درخواست دی۔

یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کو سائبر کرائم کے 15 نئے شکایتی مراکز قائم کرنے کی اجازت

شکایت کنندہ نے کہا کہ ’ولید آصف بٹ نے وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف قمرجاوید باوجوہ اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف انتہائی گھٹیا اور ہتک آمیز زبان استعمال کی‘۔

درخواست میں کہا گیا کہ ’ولید آصف بٹ کے اس طرح کے اقدام سے ہماری دل آزاری ہوئی ہے اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے‘۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے ولید آصف بٹ کو گرفتار کرکے ان کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

مزیدپڑھیں: پشاور: سائبر کرائم کے مجرم کو 8 سال قید کی سزا

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ چھاپہ مار ٹیم نے ملزم آصف بٹ کا موبائل فون قبضے میں لے لیا جس میں وزیراعظم، فوج اورعدلیہ کے خلاف قابل اعتراض مواد موجود تھا۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ولید آصف بٹ (ن) لیگ یوتھ ونگ گوجرانوالہ کا صدر رہ چکا ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم آصف اقبال نے بتایا کہ ملزم سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مواد اپ لوڈ کرتا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس مارچ میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت عدالت نے پہلا فیصلہ سناتے ہوئے لڑکیوں کو سوشل میڈیا پر تنگ کرنے والے مجرم کو 6 سال قید اور 7 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

مزیدپڑھیں: سائبر کرائم بل

سائبر کرائم ایکٹ کے تحت پہلا فیصلہ ایف آئی اے کے خصوصی مجسٹریٹ امتیاز احمد نے سنایا تھا۔

واضح رہے کہ سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے پاس صرف 10 ماہرین موجود ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم ڈائریکٹر کیپٹن (ر) محمد شعیب نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کمیونکیشن کو بتایا تھا کہ ’سائبر کرائم کے لیے ایف آئی اے کے قومی رسپانس سینٹر کے پاس انٹرنیٹ کے ذریعے ہونے والے انٹرنیٹ بینک فراڈز، لاٹری اسکیم اور سوشل میڈیا پر ہونے والے دیگر جرائم کو روکنے کے لیے صلاحیت کا فقدان ہے۔