ایسٹر حملے:سری لنکن پولیس افسر صدر کے احکامات کے برخلاف پارلیمانی کمیٹی میں پیش

اپ ڈیٹ 18 جون 2019

ای میل

سری لنکا میں ان حملوں میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے—فائل/فوٹو:اے پی
سری لنکا میں ان حملوں میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے—فائل/فوٹو:اے پی

سری لنکا کے ایک پولیس افسر نے صدر متھیریپالا سری سینا کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے رواں برس ایسٹر کے موقع پر ہوئے حملوں کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوگئے۔

سری لنکا کے صدر سری سینا نے پولیس، فوج اور انٹیلی جنس عہدیداروں کو ایسٹر حملوں کے حوالے سے ہونے والے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پیش نہ ہونے کا حکم دیا تھا جس کے بعد وہ سخت تنقید کی زد میں رہے تھے۔

ان کا موقف تھا کہ اس اجلاس میں پولیس، فوج اور انٹیلی جنس عہدیداروں کی شرکت سے خفیہ معلومات عام ہوسکتی ہیں۔

سری لنکا کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر آنندا کماراسیری نے سماعت شروع کی جس کا اکثر حصہ ان کیمرا تھا جہاں انسپکٹر این بی کاستھریاراچی پیش ہوئے اور ثبوت کے حوالے سے اپنا بیان دیا۔

رپورٹ کے مطابق انسپکٹر این بی کاستھریاراچی حملوں کے وقت جہاں تعینات تھے حملہ آور کا تعلق بھی وہی سے تھا تاہم حملہ آور دہشت گردی کی کارروائی سے ایک ماہ قبل ہی زیر زمین چلے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:سری لنکا میں 8 بم دھماکے، ہلاکتیں 290 تک پہنچ گئیں

ڈپٹی پارلیمانی اسپیکر نے سماعت کے آغاز کے موقع پر فوجی اور پولیس عہدیداروں سمیت سرکاری ملازمین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی سے تعاون کرنے سے انکار پر انہیں 10 سال کی قید ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جس کسی نے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا یا ثبوت نہیں دیے تو پارلیمانی اآئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا اور وہ سزا کا مستحق ہوگا’۔

قبل ازیں ابتدائی طور پر ہونے والے اجلاس کو سرکاری ٹیلی کمیونیکیشن سروس نے کیبل ٹی وی پر براہ راست نشر کیا تھا تاہم دو ہفتے قبل ہی صدر نے اس کو روک دیا تھا۔

صدر سری سینا نے دو ہفتے قبل ہی انٹیلی جنس کے سربراہ سیسری مینڈس کو اس لیے برطرف کردیا تھا کہ انہوں نے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بیان دیا تھا کہ ان حملوں کو روکا جاسکتا تھا۔

مزید پڑھی:داعش نے سری لنکا میں بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی

سیسری مینڈس کا کہنا تھا کہ صدر سری سینا دہشت گردوں کی جانب سے حملوں کے خطرات کا جائزہ لینے کے لیے مستقل بنیادوں پر سیکیورٹی اجلاس بلانے میں ناکام رہے تھے۔

سیکریٹری دفاع ہیماسیری فرنانڈو اور پولیس کے سربراہ پوجیتھ جیاسندارا نے بھی صدر سری سینا کے حوالے سے یہی بیان دیا تھا کہ وہ بھارت سے ملنے والی خفیہ اطلاعات کو اس کے معیار کے مطابق جانچنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس بیان کے بعد ہیماسیری فرنانڈو سے جبری طور پر استعفیٰ لیا گیا تھا اور پولیس سربراہ کو ان کے عہدے سے معطل کردیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں رواں برس اپریل میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں یکے بعد دیگرے 8 بم دھماکوں کے نتیجے میں 300 سے زائد افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی تھی۔

سری لنکا کے وزیراعظم رنیل وکرماسنگھے نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دھماکوں کو ایک دہائی قبل تک سری لنکا میں جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد بدترین واقعہ قرار دیا تھا اور ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان حملوں کے حوالے سے بھارت کی جانب سے پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا جس کے بعد دہشت گردوں کو بھارت کے مختلف ریاستوں میں تربیت دینے کا بھی انکشاف کیا گیا تھا۔