پنجاب میں ڈرون اور فلائنگ کیمرا استعمال کرنے پر پابندی

اپ ڈیٹ 19 جون 2019

ای میل

پولیس  دفعہ 138 کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمہ دائر کرسکتی ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
پولیس دفعہ 138 کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمہ دائر کرسکتی ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

پنجاب حکومت نے دو ماہ کے لیے راولپنڈی سمیت صوبے بھر میں ڈرون، ریموٹ کنٹرول ایئرکرافٹ، فلائنگ کیمرا اور تمام قسم کے بڑے غباروں کے استعمال کی صورت میں 6 ماہ کی قید کی سزا کا اعلان کردیا۔

ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق محکمہ داخلہ نے سی سی پی 1898 کے سیکشن 144 (6) کے تحت ڈرون، ریموٹ کنٹرول ماڈل ایئرکرافٹ، بغیر پائلٹ کے ایئرکارفٹ سسٹم، فلائنگ کیمرا، ہیلی کیم، کواڈ کاپٹر، بڑے غبارے سمیت تمام فضائی میڈیا کوریج پر پابندی عائد کردی۔

یہ بھی پڑھیں: 14 سال میں ڈرون حملوں کے باعث ہزاروں افراد کی ہلاکت

ماہرقانون کے مطابق محکمہ پولیس کے مطابق سیکشن 144 کے تحت ضلعی انتظامیہ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ عوامی مفاد عامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ’خاص عمل‘ پر محدود مدت کے لیے پابندی عائد کرسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس پابندی کو یقینی بنائے گی اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 138 کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمہ دائر کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دفعہ 188 میں زیادہ سے زیادہ سزا 6 ماہ کی جیل اور جرمانہ یا دونوں ساتھ ہوسکتا ہے۔

مزیدپڑھیں: ’بہت دیر نہ ہوجائے’ قاتل روبوٹس پر پابندی لگانے کا مطالبہ

علاوہ ازیں حکومت پنجاب نے ہوٹلز، ریسٹورنٹ، پارک اور کلب میں شیشے کے استعمال پر 2 کے لیے پابندی عائد کردی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ انٹیلی جنس رپورٹ کے بعد حکومت نے پابندی کا فیصلہ کیا۔

انٹیلی جنس رپورٹ میں حکومت کو آگاہ کیا گیا کہ متعدد کیفے نوجوان نسل کو کھلے عام شیشہ پینے کی اجازت دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں نوجوانوں پر انتہائی مضر اثرات پڑرہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسکولز اور کالجز میں شیشے کا استعمال غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یمنی پارلیمنٹ میں ڈرون حملوں پر پابندی کا قانون منظور

جامعہ کے ایک طالب علم نے ڈان کو بتایا کہ ان کی جماعت میں تقریباً 30 طلبہ وطالبات ہیں جن میں سے محض 4 شیشہ نہیں پیتے۔