مقبوضہ کشمیر میں جھڑپیں، 4 بھارتی فوجی ہلاک

19 جون 2019

ای میل

کرنل راجیش کالیا نے کار بم کو گشت پر مامور بھارتی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی ’ناکام کوشش‘ قرار دیا—فائل فوٹو: اے پی
کرنل راجیش کالیا نے کار بم کو گشت پر مامور بھارتی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی ’ناکام کوشش‘ قرار دیا—فائل فوٹو: اے پی

سری نگر: بھارت کےزیر تسلط کشمیر میں ایک کار بم دھماکے کے بعد حریت پسندوں کے ساتھ مبینہ جھڑپ میں 3 حریت پسند شہید اور 4 بھارتی فوجی جبکہ ہلاک ہوگئے۔

بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے ایک بیان میں بتایا کہ ’ایک فوجی اور 2 مشتبہ حریت پسند اننت ناگ کے علاقے میں ہونے والی جھڑپ میں ہلاک ہوئے‘۔

اس کے علاوہ پلوامہ میں فوجی ٹرک کو نشانہ بنانے والے ایک کار بم کے حملے کے نتیجے میں بھی 2 فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر اقوام متحدہ سے تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ

ریموٹ کنٹرول بم اسی علاقے میں نصب کیا گیا تھا جہاں فروری میں بھارتی فوج کے ایک قافلے پر ہونے والے خود کش حملے کے نتیجے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے، مذکورہ حملے کے بعد پاک بھارت تعلقات انتہائی کشیدہ صورتحال اختیار کر گئے تھے۔

کرنل راجیش کالیا نے کار بم کو گشت پر مامور بھارتی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی ’ناکام کوشش‘ قرار دیا تا ہم اس کے علاوہ مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دوسری جانب ایک سینئر پولیس افسر نے شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ دھماکے میں کم از کم 12 فوجی زخمی ہوئے جنہیں سری نگر ملٹری ہسپتال لے جایا گیا۔

مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر کے حل تک ایٹمی جنگ خارج ازامکان نہیں، امریکی اخبار

ترجمان فوج کے مطابق کار بم حملے سے کچھ گھنٹے قبل مشتبہ جنگجوؤں اور بھارتی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں ایک حریت پسند اور ایک بھارتی فوجی ہلاک ہوگیا۔

خیال رہے کہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے جنوبی علاقوں میں گزشتہ 3 سال سے مقامی افراد اور بھارتی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جو متنازع ہمالیائی خطے کی آزادی یا پاکستان کےساتھ انضمام کا مطالبہ کرتے ہیں۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ رواں برس بھارتی فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں تقریباً 100 سے زائد حریت پسند جاں بحق ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: 24 گھنٹے میں دوسرے بھارتی فوجی کی خودکشی

بھارت نے کشمیر میں تقریباً 5 لاکھ افراد کو تعینات کررکھا ہے جبکہ بھارتی وزیراعظم نریند مودی بارہا کہہ چکے ہیں کہ انہیں شورش زدہ علاقے میں جنگجوؤں کےخاتمے کی ’کھلی چھٹی‘ حاصل ہے۔


یہ خبر 19 جون 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔