'وزیراعظم نے اراکین کو پارلیمانی کارروائی نہ چلنے دینے کی کوئی ہدایت نہیں کی'

اپ ڈیٹ 19 جون 2019

ای میل

گیدڑ بھبکیاں دینے والے بجٹ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، معاون خصوصی برائے اطلاعات — فوٹو: ڈان نیوز
گیدڑ بھبکیاں دینے والے بجٹ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، معاون خصوصی برائے اطلاعات — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے عمران خان کی جانب سے پارٹی اراکین کو پارلیمنٹ کی کارروائی نہ چلنے دینے کی ہدایت سے متعلق رپورٹس کو مسترد کر دیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 'میڈیا میں اس حوالے سے منفی، من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جارہا ہے اور وزیر اعظم نے رہنماؤں کو ایسی کوئی ہدایت نہیں کی۔'

انہوں نے کہا کہ 'وزیر اعظم اداروں کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور اداروں کو بااختیار بنانا ان کا خواب ہے جن میں پارلیمنٹ سب سے پہلے ہے۔'

تاہم ان کا کہنا تھا کہ 'اگر پارلیمنٹ اسے یرغمال بنانے والے گروپ سے چھٹکارا نہیں پاتی تو وہ عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں بھی ناکام ہوجائے گی۔'

خیال رہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے کئی سیشنز میں دونوں جانب سے ہنگامہ آرائی کے بعد ایوان میں بجٹ بحث میں مزید خلل نہ ڈالنے کا معاہدہ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث ہنگامہ آرائی کی وجہ سے پیر تک ملتوی

ڈان کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی اراکین کی جانب سے شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کی حکمت عملی وزیر اعظم عمران خان کے زیر صدارت پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں طے پائی تھی۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 'وہ اپوزیشن اراکین جو اسمبلیوں کے رکن نہیں رہے لیکن پچھلے دروازے سے پارلیمنٹ میں داخل ہونا چاہتے ہیں، وہ وزیر اعظم عمران خان کو ان کے مشن سے ڈی ریل کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔'

انہوں نے پرعزم لہجے میں کہا کہ 'گیدڑ بھبکیاں دینے والے بجٹ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے اور حکومتی اراکین اسے منظور کرا لیں گے۔'

یہ بھی پڑھیں: حکومت کو بجٹ منظور نہیں کرانے دیں گے، اپوزیشن رہنماؤں کا اتفاق

ان کا کہنا تھا کہ 'بجٹ قومی سلامتی اور دفاع پاکستان کی ضمانت ہے، عوام کے نمائندے اس کی منظوری دیں گے تاہم حکومت، عوام کے مفاد میں حزب اختلاف کی تعمیری اصلاحات کا خیر مقدم کرے گی۔

واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کو بجٹ کو منظور نہ کرانے دینے کا اعلان کر چکی ہیں۔

اس سلسلے میں اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان کئی ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آئندہ ہفتے اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی ایوان میں تقریر کے حوالے سے معاون خصوصی نے کہا کہ 'جس کو کمر میں تکلیف ہو وہ ڈھائی گھنٹے قوم کو لیکچر نہیں دیتے، قوم کو مبارکباد کہ شہباز شریف صحت یاب ہوگئے ہیں اور انہوں نے آج پھر اپنی تشہیر کا آغاز کردیا ہے۔'