عدلیہ مخالف بیانات دینے والے ملزم کی درخواست ضمانت پر ایف آئی اے کو نوٹس

اپ ڈیٹ 20 جون 2019

ای میل

وکیل کے مطابق ملزم کو جرم ثابت ہونے تک غیر معینہ مدت تک کے لیے جیل میں نہیں رکھا جا سکتا — فائل فوٹو: اے ایف پی
وکیل کے مطابق ملزم کو جرم ثابت ہونے تک غیر معینہ مدت تک کے لیے جیل میں نہیں رکھا جا سکتا — فائل فوٹو: اے ایف پی

سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف بیانات دینے والے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم سرکل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 3 جولائی کو جواب طلب کرلیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شہرام سرور چودھری نے سوشل میڈیا پر عدلیہ کے خلاف بیان بازی کرنے والے ملزم عظیم عطاری کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

دوران سماعت ملزم کے وکیل عزیز الحسن وسیر ایڈووکیٹ عدالت عالیہ میں پیش ہوئے، درخواست ضمانت میں وفاقی حکومت اور ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کو فریق بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ریاستی اداروں کےخلاف نفرت آمیز مواد، لیگی یوتھ ونگ کا صدر گرفتار

وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے عدلیہ کے خلاف بیان دینے کے بے بنیاد الزام میں ملزم کو گرفتار کر رکھا ہے اور ایف آئی اے مقدمے کی تفتیش مکمل کر چکا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزم کو جرم ثابت ہونے تک غیر معینہ مدت تک کے لیے جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔

ملزم کے وکیل نے استدعا کی کہ ان کے موکل کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت عالیہ نے ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کو نوٹس جاری کر کے 3 جولائی کو جواب طلب کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کو سائبر کرائم کے 15 نئے شکایتی مراکز قائم کرنے کی اجازت

خیال رہے کہ ملزم نجی ٹی وی کے صحافی بھی رہ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ ملزم پر الزام ہے کہ انہوں نے یوٹیوب پر اپنے چینل کے ذریعے متعدد متنازع چیزیں شیئر کیں اور عدالتوں کے فیصلوں پر تنقیدی بیانات دیئے۔

ملزم کو ایف آئی اے نے 12 مئی کو لاہور میں قائم ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔

گذشتہ برس مارچ میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت عدالت نے پہلا فیصلہ سناتے ہوئے لڑکیوں کو سوشل میڈیا پر تنگ کرنے والے مجرم کو 6 سال قید اور 7 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

سائبر کرائم ایکٹ کے تحت پہلا فیصلہ ایف آئی اے کے خصوصی مجسٹریٹ امتیاز احمد نے سنایا تھا۔