مصر نے ترک صدر کا بیان ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 20 جون 2019

ای میل

ترک صدر نے کہا تھا کہ محمد مرسی مرے نہیں بلکہ انہیں قتل کیا گیا
 — فائل فوٹو/ اے ایف پی
ترک صدر نے کہا تھا کہ محمد مرسی مرے نہیں بلکہ انہیں قتل کیا گیا — فائل فوٹو/ اے ایف پی

مصر کے وزیر خارجہ نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے سابق صدر محمد مرسی کی موت سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دے دیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق مصر کے وزیر خارجہ سمیع شکری نے اپنے بیان میں ترک صدر کی جانب سے کئی بار مصر پر عائد کیے گئے 'غیر ذمہ دارانہ' الزامات کی مذمت کی۔

رجب طیب اردوان، محمد مرسی کے دورِ اقتدار میں ان کے قریبی اتحادی تھے اور 2013 میں ان کا تختہ الٹنے کے بعد انقرہ اور قاہرہ کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔

گزشتہ روز ترک صدر نے مصری حکام پر کمرہ عدالت میں محمد مرسی کی زندگی بچانے کے لیے اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

مزید پڑھیں: 'محمد مرسی کے قتل کی مجرم'، مصری حکومت کو عالمی عدالت لے جائیں گے، ترک صدر

انہوں نے کہا تھا کہ مصر کے سابق صدر محمد مرسی کمرہ عدالت میں 20 منٹ تک مدد کے لیے ہاتھ ہلاتے رہے لیکن حکام نے توجہ نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ ’میں اس لیے کہتا ہوں کہ محمد مرسی مرے نہیں بلکہ انہیں قتل کیا گیا‘۔

خیال رہے کہ محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد سابق آرمی چیف اور موجودہ صدر عبدالفتح السیسی کی جانب سے مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہزاروں افراد جیل میں قید ہیں، جبکہ سیکڑوں افراد کو سزائے موت کا سامنا ہے۔

مصر کی جانب سے ترکی پر کریک ڈاؤن کے دوران مفرور افراد کو پناہ دینے کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ مصر کے سابق صدر محمد مُرسی 17 جون کو کمرہ عدالت میں انتقال کر گئے تھے۔

محمد مرسی کو اہلخانہ اور اخوان المسلمین کے سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں سخت سیکیورٹی میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے مطالبہ کیا تھا کہ آزادانہ تحقیقات میں مصر کی انتظامیہ کے محمد مرسی سے روا رکھنے جانے سلوک کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے، تاکہ اس بات کی وضاحت ہو سکے کہ جن حالات میں انہیں قید رکھا گیا ان کا سابق صدر کی موت سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مصر کا اقوام متحدہ پر محمد مرسی کی موت کو 'سیاسی رنگ' دینے کا الزام

تاہم مصر نے اقوام متحدہ پر ملک کے پہلے منتخب جمہوری صدر محمد مُرسی کی وفات کو 'سیاسی رنگ' دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

اس سے قبل مارچ 2018 میں برطانوی پارلیمانی اراکین کے وفد نے محمد مرسی کی قید میں درپیش حالات سے متعلق خبردار کیا تھا اور کہا تھا خاص طور پر ان کی ذیابیطس اور جگر کی بیماری کا ناقص علاج قبل از وقت موت کی وجہ بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ حسنی مبارک کی 3 دہائیوں پر مشتمل آمریت کے خلاف جنوری 2011 میں قاہرہ کے تحریر اسکوائر پر لاکھوں افراد نے مظاہرہ کیا اور حسنی مبارک سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: مصر کے سابق صدر محمد مُرسی سپرد خاک

تحریر اسکوائر پر لاکھوں افراد کے مظاہروں کے نتیجے میں حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد جون 2012 میں مصر کے پہلے آزادانہ طور پر منتخب ہونے والے صدر محمد مرسی کو اقتدار کے صرف ایک سال بعد استعفے کے مطالبہ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جولائی 2013 میں اس وقت کے آرمی چیف اور موجودہ صدر عبد الفتح السیسی نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

محمد مرسی کو جاسوسی، مظاہرین کو قتل کروانے اور جیل توڑنے کے الزامات کے تحت عمر قید، سزائے موت اور 20 سال قید کی سزائیں بھی سنائی گئی تھی۔

مارچ 2018 میں برطانوی پارلیمانی رہنماؤں کے ایک گروپ نے محمد مرسی کی قید کی حالت زار، بالخصوص ان کے جگر کے مرض اور ذیابیطس کے لیے طبی سہولیات پر تنبیہ کی تھی۔