ٹیکس دائرہ کار میں زیرو ریٹنگ کی بحالی ممکن نہیں، وزیراعظم عمران خان

اپ ڈیٹ 21 جون 2019

ای میل

تاجر برادری کے وفد نے وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں  اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا—تصویر: اے پی پی
تاجر برادری کے وفد نے وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا—تصویر: اے پی پی

وزیراعظم عمران خان نے ٹیکسٹائل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے صنعت کاروں کو بآور کروایا ہے کہ حکومت ان کے تمام حقیقی تحفظات دور کرنے کے لیے تیار ہے لیکن موجودہ صورتحال میں ٹیکس دائرکار سے متعلق زیرو ریٹنگ کی بحالی ممکن نہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے 5 صنعتی شعبوں سے زیرو ریٹنگ کی سہولت واپس لی تھی جن میں ٹیکسٹائل، چمڑا، قالین بافی، کھیل کا سامان اور آلاتِ جراحی شامل ہیں اور ان کی تمام اشیا پر 17 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کردیا گیا تھا۔

اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ماننا ہے کہ 5 شعبہ جات میں ٹیکس دائرہ کار میں تبدیلی سے 75 ارب روپے اضافی آمدنی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: 'ٹیکس وصولی میں کسی کو ناراض کرنا پڑا تو تیار ہیں'

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کا کہنا تھا کہ شعبہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے وفد کے ساتھ ساتھ فیڈریشن آف پاکستان چیمرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر درو خان اچکزئی اور دیگر کاروباری شخصیات نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔

اس موقع پر وزیراعظم نے حکومت اور تاجر برادری کے مابین موثر اشتراک کی ضرورت پر زور دیا تا کہ موجودہ اقتصادی بحران سے نمٹا جاسکے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کاروباری اور مینو فیکچرنگ سرگرمیوں کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے جس پر کاروباری وفد نے انہیں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

مزید پڑھیں: اقتصادی جائزہ رپورٹ: حکومت تمام اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

شعبہ ٹیکسٹائل سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا کہ گذشتہ 10 سالوں میں زیرو ریٹنگ کے حامل 5 شعبہ جات کی برآمدات میں قیمت کے اعتبار سے 37 فیصد اضافہ ہوا تاہم گذشتہ 4 ماہ کے دوران روپے کی قدر میں کمی کے باعث برآمدات میں صرف مقدار کا اضافہ ہوا۔

پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت کی 80 فیصد سے زائد مصنوعات برآمد کی جاتی ہیں لہٰذا بقیہ 20 فیصد مصنوعات پر سیلز ٹیکس لینا قابلِ عمل اور بہتر نہیں۔

چنانچہ حکومت کو تجویز دی گئی کہ مقامی مارکیٹس میں فروخت ہونے والی اشیا پر ٹیکس وصول کیا جائے اور اس کے ساتھ ہول سیل اور ریٹیل کو رجسٹرڈ کر کے بھی یہ کام کیا جائے کیوں کہ محض 20 فیصد کے لیے مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں رد و بدل مناسب اقدام نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مالی سال 19-2018: سست معیشت، بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں بھی کمی کا باعث

تاجر برادری کا مزید کہنا تھا کہ شعبہ برآمدات کو پہلے ہی لیکویڈٹی میں سخت مشکلات کا سامنا ہے کیوں کہ سیلز ٹیکس، کسٹم چھوٹ اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں 200 ارب روپے کے واپسی کو حکومت نے طول دے رکھی ہے۔

اس موقع پر ایف بی آر چیئرمین شبر زیدی نے تاجر برادری کو یقین دہانی کروائی کہ ایک نیا نظام متعارف کروایا جائے گا تاکہ برآمد کنندگان کو برآمد کے وقت ادائیگی کردی جائے۔

اس کے علاوہ اجلاس میں تاجر برادری کی متعدد تجاویز پر غور وخوص کے بعد ان کو فنانس بل کا حصہ بنانے کے لیے منظور کرلیا گیا۔