سعودی عرب نے غیر ملکیوں کیلئے رہائشی اسکیم متعارف کروادی

24 جون 2019

ای میل

اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے افراد سعودی کفیل کے بغیر بزنس کرسکیں گے — فائل فوٹو/بلوم برگ
اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے افراد سعودی کفیل کے بغیر بزنس کرسکیں گے — فائل فوٹو/بلوم برگ

ریاض: سعودی عرب نے نئی خصوصی رہائشی اسکیم پیش کردی جس کا مقصد پیٹرول سے مالا مال ریاست کے تیل کے علاوہ دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کو فروغ دینے کے لیے امیر ترین افراد کو راغب کرنا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس اسکیم کے آن لائن رجسٹریشن کے تحت 8 لاکھ ریال (2 لاکھ 13 ہزار ڈالر) ادا کر کے مستقل رہائش جبکہ ایک لاکھ ریال (27 ہزار ڈالر) ادا کر کے قابلِ تجدید رہائش حاصل کی جاسکتی ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے افراد سعودی کفیل کے بغیر بزنس کرسکیں گے اس کے ساتھ انہیں جائیداد خریدنے اور رشتہ داروں کے ویزا اسپانسر کرنے کی سہولت بھی مل جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا تارکین وطن کو ’گرین کارڈ‘ دینے کا فیصلہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے ان عرب شہریوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا جو سعودی عرب میں سالوں سے بغیر مستقل رہائش کے مقیم ہیں یا وہ کثیر الملکی (ملٹی نیشنل) کمپنیاں جو سعودی عرب میں طویل عرصے تک بزنس کرنا چاہتی ہیں۔

یہ اقدام ملک کی جانب سے تیل پر انحصار کرنے والی معیشت کے دیگر ذرائع سے آمدنی بڑھانے کی کوششوں کے تحت متعارف کروایا گیا۔

مذکورہ اسکیم کو گذشتہ ماہ سعودی کابینہ نے منظور کیا تھا تاہم اس سلسلے میں سعودی عرب میں اس وقت ایک کروڑ غیر ملکی کارکنان موجود ہیں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے مطابق ان میں سے اکثریت کو انتہائی سخت رہائشی قواعد و ضوابط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات کا تارکین وطن کو مستقل رہائش دینے کا فیصلہ

ان کارکنان کو زیادہ تر سعودی آجر اسپانسر کرتے ہیں اور ان کے لیے لازم ہوتا ہے کہ ملک میں داخل ہونے اور واپس جانے کے لیے ویزا لیں۔

خیال رہے کہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب نے بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکنان کو نکالا ہے اس کے ساتھ حکومت نے ملازمین کے اہلِ خانہ کے لیے بھاری فیس عائد کی اور کچھ شعبہ جات میں انہیں کام کرنے سے روک بھی دیا گیا۔

علاوہ ازیں سعودی عرب میں غیر قانونی غیر ملکی کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن بھی جاری ہے جس کے تحت سیکڑوں ہزاروں کارکنان کو گذشتہ 2 سال کے عرصے میں ملک بدر بھی کیا گیا ہے۔


یہ خبر 24 جون 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔