کیا آپ جانتے ہیں نریندر مودی پچھلے جنم میں سر سید تھے؟

اپ ڈیٹ 24 جون 2019

ای میل

نریندر مودی کا یہ دوسرا جنم ہے، بھارتی میڈیا—فوٹو: آؤٹ لک انڈیا
نریندر مودی کا یہ دوسرا جنم ہے، بھارتی میڈیا—فوٹو: آؤٹ لک انڈیا

عین ممکن ہے کہ آپ میں سے زیادہ تر لوگ یہ جانتے ہوں کہ نریندر مودی بھارتی وزیر اعظم بننے سے قبل ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور وہ بچپن میں چائے بیچ کر اپنا گزر سفر کرتے تھے۔

ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ علم بھی ہو کہ نریندر مودی نے ریاست گجرات کے وزارت اعلیٰ کے دور میں مسلمانوں کے خلاف مظالم بھی ڈھائے ہوں اور آپ اس بات سے بھی باخبر ہوں کہ وہ ایک کٹر ہندو ہیں۔

لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ نریندر مودی کا یہ دوسرا جنم ہے اور وہ اپنے ہہلے جنم میں عظیم مسلمان رہنما سر سید احمد خان تھے جنہوں نے انگریزوں سے بغاوت کرتے ہوئے سب سے پہلے ایک الگ ملک کا نعرہ بلند کیا تھا۔

جی ہاں، بھارتی ٹی وی چینل کے مطابق نریندر مودی کا یہ دوسرا جنم ہے اور وہ اپنے پہلے جنم میں مسلمان مفکر اور آزادی ہند کے عظیم رہنما سر سید احمد خان تھے۔

بھارتی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں حیران کن انکشاف کیا کہ نریندر مودی اس جنم سے نہیں بلکہ پچھلے جنم سے عظیم ہندوستان بنانے کے لیے مصروف عمل ہیں اور انہوں نے اپنے پہلے جنم میں بھی دن رات ایک کرکے قوم اور ملک کی خدمت کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس بات کا علم خود نریندر مودی کو ہی نہیں کہ وہ پچھلے جنم میں سر سید احمد خان تھے۔

نریندر مودی اس لیے اس جنم میں عظیم رہنما بنے ہیں، کیوں کہ وہ پچھلے جنم میں بھی عظیم رہنما تھے، رپورٹ—فوٹو: اے ایف پی
نریندر مودی اس لیے اس جنم میں عظیم رہنما بنے ہیں، کیوں کہ وہ پچھلے جنم میں بھی عظیم رہنما تھے، رپورٹ—فوٹو: اے ایف پی

بھارتی ٹی وی نے برصغیر کے عظیم سیاسی رہنما سر سید احمد خان کو کٹر مسلم قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کا اعتراف بھی کیا اور بتایا کہ پچھلے جنم کے کٹر مسلم اس جنم میں ہندوستان کے عظیم رہنما ہیں۔

بھارتی ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ نریندر مودی کے دوسرے جنم کا انکشاف وہ نہیں بلکہ امریکا کے ایک تحقیقاتی ادارے ’انسٹی ٹیوٹ فار دی انٹی گریشن آف سائنس، انٹیوشن اینڈ اسپرٹ ( آئی آئی ایس آئی ایس) نے کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی ادارے نے نریندر مودی سمیت دنیا بھر کے 20 ہزار افراد کے دوبارا جنم لینے کے معاملے پر تحقیقات کی ہے جب کہ یہی ادارہ جانوروں پر بھی تحقیق کر چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر نریندر مودی نے بھارتی انتخابات میں دوبارا کامیابی حاصل کی ہے اور وہ ایک عظیم رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں تو اس کا کریڈٹ بھی ان کے پچھلے جنم کو جاتا ہے۔

رپورٹ میں دلیل دی گئی ہے کہ انسان کے دوبارا جنم لینے پر بھی ان کے پچھلے جنم کی عادتیں ان میں آجاتی ہیں اور چوں کہ نریندر مودی پچھلے جنم میں عظیم رہنما سر سید احمد خان تھے تو اس لیے وہ اس جنم میں بھی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سر سید احمد متحدہ ہندوستان کے عظیم سیاسی و مسلم رہنما تھے، انہوں نے ہی برصغیر میں مسلمانوں کی بہتری کے لیے پہلا تعلیمی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تعمیر کیا تھا۔

سر سید احمد خان کو دو قومی نظریے کا بانی بھی تصور کیا جاتا ہے، ان کا شمار 19 ویں صدی کے عظیم فلسفیوں اور سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

سر سید احمد خان نے ولایت سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہندوستان پر قابض ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت بھی اختیار کی تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے اس کمپنی سے علیحدگی اختیار کرکے جنگ آزادی کے بعد ایک عظیم رہنما کا کردار ادا کیا۔

وہ 1898 میں وفات پاگئے تھے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہندو ازم کے عقیدے کے مطابق انسان کا دوسرا جنم ہوتا ہے۔