ٹیکس ادا کریں یا نتائج کا سامنا کریں، عمران خان

اپ ڈیٹ 25 جون 2019

ای میل

وزیر اعظم عمران خان نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اپنے اثاثے ظاہر کردیں یا سزا کے لیے تیار ہوجائیں — فائل فوٹو/عمران خان انسٹاگرام اکاؤنٹ
وزیر اعظم عمران خان نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اپنے اثاثے ظاہر کردیں یا سزا کے لیے تیار ہوجائیں — فائل فوٹو/عمران خان انسٹاگرام اکاؤنٹ

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت ایمنسٹی اسکیم کی 30 جون کی آخری تاریخ میں توسیع نہیں کرے گی، عوام اپنے اثاثے ظاہر کردے یا سزا کے لیے تیار ہوجائے۔

نجی چینل 'جیو نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تمام ڈیٹا اکٹھا کرلیا ہے جو کبھی گزشتہ حکومتوں میں نہیں ہوا اور بے نامی بینک اکاؤنٹس اور اثاثوں کے حوالے سے قانون بھی مرتب دے دیا ہے، جس کے تحت غیر ظاہر شدہ اثاثوں کو ضبط کرنے کے علاوہ اس پر سزا بھی دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ 'دنیا کی سب سے بُری بیماریاں کینسر، ذیابیطس اور دل کی بیماریاں ہیں جو ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہوتی ہیں، آئندہ دنوں میں ہم عوام سے ٹیکس اکٹھا کریں گے اور ٹیکس چوروں کو سزا دیں گے، ہمیں آپ کے غیر ظاہر شدہ اثاثے ضبط کرنے ہوں گے، اپنی زندگی آسان بنائیں اور اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں جو ملک کو بھی معاشی بحران سے نکالنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں آپ کی پریشانیوں کو بھی کم کرے گا'۔

مزید پڑھیں: عمران خان 'میثاق معیشت' پر خود رابطہ کریں، اپوزیشن

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان انتہائی مشکل وقت سے گزر رہا ہے، ہمارے عوام دنیا میں سب سے کم ٹیکس دینے والے عوام میں سے ہیں، جبکہ ہمارا ٹیکس کا نصف سے زائد پیسہ غیر ملکی قرضوں اور سود ادا کرنے میں چلا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے پاس اس وقت کوئی آپشن نہیں ہے، یا تو ٹیکس ادا کرنے والے بن جائیں، یا نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوجائیں'۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک کی معاشی صورتحال اس نہج پر کرپشن اور ٹیکس ادا نہ کرنے کی وجہ سے پہنچی ہے۔

انہوں نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ ماضی کی طرح حکمرانوں کے بجائے ان ہی پر خرچ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت نے وزیر اعظم ہاؤس، فوج کے اخراجات کم کر دیئے ہیں جبکہ وزرا نے بھی اپنی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کی ہے'۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'میں نے ملک کے فائدے کے بغیر غیر ضروری بین الاقوامی دورہ نہیں کیا، ورلڈ کپ کے لیے لندن سے دعوت نامہ موصول ہوا تھا مگر وہاں بھی نہیں گیا'۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم عمران خان آئندہ ماہ قرضِ حسنہ اسکیم کا آغاز کریں گے

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے عوام کو ہراساں کیے جانے کی شکایات کے لیے اپنی ٹیم کو خصوصی ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت دی ہے جبکہ شکایات براہ راست مجھ تک آن لائن سٹیزن پورٹل کے ذریعے بھی پہنچائی جاسکتی ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت عوام میں ایف بی آر پر اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے لیے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ساتھ مل کر ادارے میں اصلاحات لانے جارہے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'حکومت ایف بی آر میں ہر سطح پر اصلاحات لے کر آئے گی اور ٹیکسیشن کے نظام میں شفافیت کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا'۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ورنہ ہم پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔

انہوں نے مقامی و تارکین وطن پاکستانیوں پر زور دیا کہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کریں کیونکہ عوام اور حکومت ایک پیج پر نہ ہوں تو ملک نہیں چل سکتا۔

انہوں نے کہا کہ عوام ٹیکس کو اگر فوری ادا نہیں کرسکتے تو قسطوں میں بھی ادا کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں اسکیم کی مقررہ آخری تاریخ سے قبل خود کو رجسٹر کروانا ہوگا۔

منی لانڈرنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سالانہ 10 ارب ڈالر کی رقم ملک سے غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجی جارہی ہے جس سے ملک کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت قبائلی علاقوں کے ذریعے اسمگلنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور وہاں کے عوام کے لیے متبادل روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔