ہیڈ آفس اسلام آباد منتقل نہیں کیا جارہا، پی آئی اے

اپ ڈیٹ 25 جون 2019

ای میل

پی آئی اے ہیڈ آفس اور صوبائی دفاتر میں موجود دیگر اسٹاف کو اسلام آباد منتقل کیا جارہا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک
پی آئی اے ہیڈ آفس اور صوبائی دفاتر میں موجود دیگر اسٹاف کو اسلام آباد منتقل کیا جارہا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک

کراچی سے قومی ایئرلائن کے ہیڈ آفس کی ممکنہ منتقلی سے متعلق پیدا ہونے والے خدشات کو دور کرنے کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے کہا ہے کہ اس کے ملازمین کو اسلام آباد منتقل کرنے کا ’مطلب کسی بھی طریقے سے ایئرلائن کے ہیڈ آفس کو منتقل کرنا نہیں ہے‘۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایئرمارشل ارشد ملک کے بطور چیف ایگزیکٹو قومی ایئرلائن کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے پائلٹس، کیبن کریو، انجینئرز اور دہائیوں سے پی آئی اے ہیڈ آفس اور صوبائی دفاتر میں موجود دیگر اسٹاف کو اسلام آباد منتقل کیا جارہا ہے۔

تاہم اس صوابدیدی منتقلی نے ایک افواہ کو جنم دے دیا کہ نئے انتظامیہ ایئرلائن کے ہیڈ آفس کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: سینیٹ: پی آئی اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد منتقل کرنے کے خلاف قراداد منظور

اس حوالے سے 13 مئی کو سینیٹ میں ایک قرار داد کثرت رائے سے منظور کی گئی جس میں مبینہ طور پر پی آئی اے ہیڈ آفس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی مخالفت کی گئی، لیکن وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے اس قرارداد کی مخالفت کی جو قیاس آرائیاں پھیلا رہی تھیں کہ حکومت قریب مستقبل میں ہیڈآفس کو منتقل کرنا چاہتی ہے۔

اس بے یقینی کی فضا میں پی آئی اے انتظامیہ بالآخر جواب کے ساتھ سامنے آئی اور واضح کیا کہ قومی ایئرلائن اپنے ہیڈکوارٹرز کو ’منتقل‘ نہیں کر رہی لیکن اس کا منصوبہ تھا کہ نئے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ’ایئرلائن کا مرکز‘ بنایا جائے۔

ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ ’ پی آئی اے اپنے ہیڈ آفس کو منتقل نہیں کر رہی لیکن ایئرلائن کے بزنس پلان میں غور کیے گئے اقتصادی استحکام کے حصول اور اس پر تیزی سے عمل درآمد کے لیے آگے بڑھ رہا ہے‘۔

پی آئی اے کے ترجمان نے مزید بتایا کہ ’انتظامیہ اپنے انسانی وسائل کو دوبارہ منظم کر رہی ہے تاکہ اسے زیادہ موثر طریقے سے استعمال کیا جاسکے، اسی سلسلے میں پاکستان بھر میں مختلف اسٹیشنز میں اپنے ملازمین کی دوبارہ پوسٹنگ کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کو ماہانہ 2 ارب روپے کے آپریشنل خسارے کا سامنا

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اسلام آباد اور دیگر اسٹیشن جہاں ضرورت ہو وہاں کام کا بوجھ، مانگ اور مستقبل کے امکانات سے نمٹنے کے لیے منتقلی کے عمل میں ہے۔

علاوہ ازیں ترجمان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ’یورپی ممالکت کے لیے کراچی سے 2 فلائٹ کے مقابلے میں اسلام آباد سے ہر ہفتے 22 فلائٹس آپریٹ کر رہا ہے‘ تاہم انہوں نے یہ وجوہات نہیں بتائیں کہ کیوں قومی ایئرلائن اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے کہ کراچی سے اب بھی غیرملکی ایئرلائنز کی زیادہ پروازیں آپریٹ ہورہی ہیں وہ ایک چھوٹے شہر سے زیادہ پروازیں کررہی ہے۔