مسئلہ کشمیر کے حل پر مودی سرکار کا حریت رہنماؤں کو مایوس کن جواب

اپ ڈیٹ 25 جون 2019

ای میل

سہ فریقی مذاکرات میں کشمیر سمیت دیگر تمام حل طلب مسائل پر بات چیت کریں گے، حریت رہنما—فائل فوٹو: رائٹرز
سہ فریقی مذاکرات میں کشمیر سمیت دیگر تمام حل طلب مسائل پر بات چیت کریں گے، حریت رہنما—فائل فوٹو: رائٹرز

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کی جانب سے بھارتی حکومت کے ساتھ مثبت مذاکرات کی پیشکش کو ’دہشت گردی کے خلاف حالیہ اقدامات‘ کے منافی قرار دے دیا۔

واضح رہے کہ اے پی ایچ سی چیئرمین میر واعظ عمر فاروق سے متعلق کہا گیا تھا کہ انہوں نے 22 جون کو کہا تھا کہ ’اگر نئی دہلی بامعنیٰ مذاکرات کا آغاز کرے گا تو مثبت جواب ملے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر کے حل تک ایٹمی جنگ خارج ازامکان نہیں، امریکی اخبار

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے بی جے پی کے ترجمان انیل گپتا نے کہا کہ ’مشترکہ مزاحمتی قیادت (بشمول حریت) پہلے عوامی سطح پر جموں و کشمیر کو غیر متنازع اور بھارت کا اہم حصہ قرار دے‘۔

انیل گپتا نے کہا کہ حریت رہنماؤں کی جانب سے ’پیشگی شرائط‘ قبول کرنے سے قبل مذاکرات کے نتیجے میں ’انسداد دہشت گردی کے تمام اقدامات پر پانی پِھر جائے گا‘۔

میر واعظ عمر فاروق نے سہ فریقی مذاکرات کا تذکرہ کیا تھا جس کے فریقین کشمیری قیادت، نئی دہلی اور اسلام آباد ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سہ فریقی مذاکرات کشمیر سمیت دیگر تمام حل طلب مسائل پر بات چیت کریں گے۔

مزیدپڑھیں: مسئلہ کشمیر پر دنیا وہی سنتی ہے جو بھارت کہتا ہے، نجم الدین شیخ

حریت رہنما نے کہا تھا کہ ’ہم سب سے زیادہ متاثر ہونے والے فریق ہیں جہاں روزانہ ہمارے نوجوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں اس لیے ہم مسائل کا پرامن حل چاہتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ بھارت پہلے مذکورہ فارمولا کو مسترد کر چکا ہے۔

دوسری جانب جموں و کشمیر کے گورنر نے ستیہ پال ملک نے کہا تھا کہ حریت قیادت کے موقف میں نرمی آئی ہے اور وہ بات چیت کرنے پر آمادہ ہیں۔

ادھر بی جے پی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حریت رہنماؤں کی مشترکہ مذاحمتی قیادت (جے آر ایل) کشمیریوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور انہوں نے پاکستان کی وجہ سے کشمیریوں کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کا خون کروایا‘۔

یہ بھی پڑھیں: گرفتار بھارتی پائلٹ کو واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کردیا گیا

ان کا کہنا تھا کہ اب حریت رہنما اپنے موقف میں تبدیلی لائے ہیں اور علیحدگی پسند کو فروغ دے رہے ہیں۔

دوسری جانب جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے کہا تھا کہ حریت قیادت کے موقف میں نرمی آئی ہے اور وہ بات چیت کرنے پر آمادہ ہیں۔

ادھر بی جے پی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حریت رہنماؤں کی مشترکہ مذاحمتی قیادت (جے آر ایل) کشمیریوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور انہوں نے پاکستان کی وجہ سے کشمیریوں کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کا خون کروایا‘۔

انہوں کا کہنا تھا کہ اب حریت رہنما اپنے موقف میں تبدیلی لائے ہیں اور علیحدگی پسند کو فروغ دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر: بھارتی فوج کی فائرنگ سے 17 نوجوان جاں بحق

بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کے ترجمان نے مزید کہا کہ جے آر ایل ’کشمیری پاور بروکر‘ کی بنیاد پر موقف اختیار کرتی ہے جبکہ وہ محض جماعت اسلامی کشمیر (جے ای آئی کے) کے حمایت پر زندہ ہیں۔

انیل گپتا کا کہنا تھا کہ ’محض نئی دہلی سے مذاکرات کی اپیل ذہن تبدیل ہونے کی علامت نہیں ہے‘۔