ریلوے کا ریٹائرڈ ڈرائیورز کو دوبارہ تعینات کرنے پر غور

اپ ڈیٹ 25 جون 2019

ای میل

وزیراعظم عمران خان ایک اور نئی ٹرین سر سید ایکسپریس کا افتتاح 3 جولائی کریں گے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
وزیراعظم عمران خان ایک اور نئی ٹرین سر سید ایکسپریس کا افتتاح 3 جولائی کریں گے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ محکمہ ریلوے ٹرینوں کے معاون ڈرائیورز کے تربیت یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے 30 فیصد اسامیاں دوبارہ ریٹائرڈ افسران کو دینے پر غور کر رہا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’ان تعیناتیوں کی منظوری لینے کے لیے جلد وزیراعظم کو سمری بھجوائی جائے گی۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 30 نئی ٹرینیں چلانے کی وجہ سے مسافروں کی تعداد 60 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان ایک اور نئی ٹرین سر سید ایکسپریس کا افتتاح 3 جولائی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: یکم جولائی سے ریلوے کرایوں میں 7 فیصد تک اضافہ

انہوں نے کہا کہ ’دنیا میں کہیں بھی مسافر ٹرینیں منافع نہیں کماتیں لیکن ہمیں 3 سے 40 ارب روپے کا نقصان کم کرنا ہے، ہمارا ہدف ہے کہ 24 اگست کو پیش کی جانے والی سالانہ کارکردگی رپورٹ میں نقصان کو 8 ارب روپے تک کم کیا جائے‘۔

وفاقی وزیر ریلوے نے بتایا کہ ایندھن کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے کرایہ بڑھایا گیا اور دعویٰ کیا کہ 3 ارب 80 کروڑ روپے ایندھن پر خرچ کیے جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ فالتو پرزہ جات کی قیمتوں میں بھی ڈالر کی قدر بڑھنے کے باعث اضافہ ہوگیا ہے، ایندھن کی قیمتیں بڑھ گئی لیکن ہم نے 17 لاکھ لیٹر تیل محفوظ کررکھا ہے۔

مزید پڑھیں: معاشرہ من حیث القوم بدعنوان ہوچکا ہے، شیخ رشید

ان کا کہنا ہے کہ ریلوے کو سرکاری ترقیاتی پروگرام سے بڑا حصہ نہیں ملا لیکن اس کی کارکردگی متاثر نہں ہوئی۔

شیخ رشید نے مزید کہا کہ اگر گولف سٹی کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں آیا تو ریلوے مالی طور پر خود مختار ہوجائے گی، ہم نے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے خودکار سسٹم پر کام کرنا شروع کردیا ہے تاہم اب تک وائی فائی پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا۔

سینیٹ کمیٹی کو سکھر حادثے کے بارے میں بتاتے ہوئے وزارت ریلوے کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ کوئلہ ٹرین حیدرآباد جارہی تھی جس کی رفتار 15 کلومیٹر فی گھنٹہ ہونی چاہیے تھی لیکن اس وقت اس کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور سگنلز بھی سرخ تھے جسے ڈرائیور نے نظر انداز کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلاول پر تنقید، پیپلز پارٹی کا شیخ رشید کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ

عہدیدار کا کمیٹی اجلاس میں کہنا تھا کہ 11 اپریل کو بہاؤالدین ذکریا ایکسپریس ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے پٹری سے اتری، 17 مئی کو مال گاڑی فش پلیٹ کے بولٹس ٹوٹنے کی وجہ سے ، 29 مئی کو جعفر ایکسپریس بایاں بفر گرنے کی وجہ سے، یکم جون کو شاہ حسین ایکسپریس رولنگ اسٹاک کی وجہ سے، 10 جون کو میانوالی ایکسپریس ٹریک ڈھیلا ہونے کی وجہ سے، اور 6 جون کو قراقرم ایکسپریس ٹریک گاج پھیلنے کی وجہ سے پٹری سے اتر گئیں تھیں۔


یہ خبر 25 جون 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔