جعلی شادیوں کا معاملہ: گرفتار 2 چینی باشندوں کی رہائی کا حکم

ای میل

عدالت نے محفوظ کیا گیا فیصلہ ملزمان کی پاکستانی بیویوں کی موجودگی میں سنایا — فوٹو: شٹر اسٹاک
عدالت نے محفوظ کیا گیا فیصلہ ملزمان کی پاکستانی بیویوں کی موجودگی میں سنایا — فوٹو: شٹر اسٹاک

لاہور کی مقامی عدالت نے پاکستانی لڑکیوں سے شادی کے بعد مبینہ طور پر غیرقانونی کام کروانے کے الزام میں گرفتار 2 چینی باشندوں کی ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا۔

صوبائی دارالحکومت کی عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ نے دونوں ملزمان کی درخواست ضمانت بعداز گرفتاری پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

سیشن عدالت نے محفوظ کیا گیا فیصلہ ملزمان کی پاکستانی بیویوں کی موجودگی میں سنایا۔

مزید پڑھیں: جعلی شادیوں کا معاملہ: 11 چینی شہریوں کا مزید 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اس سے قبل 2 چینی باشندوں کی پاکستانی بیویوں سمیرا اور فوزیہ نے بیان دیا تھا کہ شادی قانون کے مطابق کی ہے اور ہم اپنے شوہروں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

پاکستانی لڑکی نے کہا تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا، تاہم تحقیقاتی ادارے نے موقف اپنایا کہ ملزم پاکستانی لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دے کر چین میں جسم فروشی کرواتے تھے۔

ایف آئی اے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزم انسانی اسمگلنگ اور خواتین سے غیر اخلاقی کام کروانے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

عدالت یہ بھی بتایا گیا کہ ملزمان ضمانت حاصل کرنے کے بعد بیرون ملک فرار ہوجائیں گے، لہٰذا ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی جائیں۔

تاہم عدالت نے دونوں پاکستانی لڑکیوں کے بیان کی روشنی میں درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ 24 جون کو لاہور ہائی کورٹ نے بھی ایک کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے سمیت پولیس کو چینی باشندے اور ان کی پاکستانی اہلیہ کو ہراساں کرنے سے روک دیا تھا۔

اس سلسلے میں عدالت میں درخواست گزار لڑکی نے موقف اپنایا تھا کہ چینی باشندے سے پسند کی شادی کی ہے، اپنے چینی شوہر کے ساتھ خوش ہوں اور اسی کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔

ساتھ ہی لڑکی نے کہا تھا کہ ایف آئی اے سمیت پولیس ہمیں ہراساں کر رہی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ اداروں کو درخواست گزار کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دیا جائے۔

یاد رہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے اس طرح کی خبریں سامنے آرہی تھیں کہ چینی شہری پاکستانی لڑکیوں سے مبینہ طور پر جعلی شادیاں کرکے انہیں انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کررہے ہیں اور پاکستانی لڑکیوں کو سرحد پار لے جاکر زبردستی جسم فروشی کروائی جاتی ہے اور ان کے اعضا فروخت کیے جاتے ہیں۔

اس معاملے پر ایف آئی اے کی جانب سے ایکشن لیا گیا تھا اور انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے درجنوں چینی باشندوں کو گرفتار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد: پاکستانی لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کا آغاز کس طرح ہوا؟

تمام صورتحال پر اسلام آباد میں چینی سفارتخانہ بھی حرکت میں آیا تھا اور انہوں نے 2 علیحدہ بیانات جاری کیے تھے، پہلے بیان میں غیر قانونی شادیوں کے حوالے سے رپورٹس کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'چین، پاکستان کی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر غیر قانونی شادیوں میں ملوث افراد کو تلاش کررہا ہے'۔

تاہم 10 مئی کو جاری ایک اور بیان میں چین نے اپنے باشندوں کی جانب سے شادی کے بعد پاکستانی لڑکیوں سے زبردستی جسم فروشی کروانے اور ان کے اعضا فروخت کرنے سے متعلق خبریں مسترد کردی تھیں۔

چینی سفارتخانے نے کہا تھا کہ بیرون ملک شادیوں کے معاملے پر چین کا موقف بہت واضح ہے اور یہ قانونی شادیوں کا تحفظ اور جرائم کو روکتا ہے اور اگر کوئی تنظیم یا شخص پاکستان میں سرحد پار شادی کے تحت کوئی جرم کرتا ہے تو چین ان کے خلاف پاکستانی قوانین کے مطابق کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔