'پنجاب کے بیوٹی پارلر ایڈز اور ہیپاٹائٹس کا سبب'

25 جون 2019

ای میل

خواتین کو سجنے سنورنے کے لیے بیوٹی پارلرز اور سیلون جانے کا بےحد شوق ہوتا ہے تاہم اگر یہی بیوٹی پارلرز ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی مہلک بیماریاں پھیلانے کا سبب بننے لگے تو کیا ہوگا؟

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں بیوٹی پارلرز اور سیلون کی وجہ سے اب تک تین ہزار سے زائد مریض اس بیماری سے متاثر ہوچکے ہیں۔

پاکستان کے کئی شہروں میں ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریاں بڑھنے لگیں، ان میں لاہور، گجرات، ڈی جی خان، فیصل آباد، کوٹ عمرانہ اور چنیوٹ سمیت دیگر شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب کے 5 اضلاع میں ایچ آئی وی/ایڈز کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب کے ہسپتالوں میں تین ہزار سے زائد مریض رجسٹرڈ ہوئے جو ان بیماریوں میں مبتلا تھے۔

ایڈز کنٹرول پروگرام کے سیکڑٹری ڈاکٹر عاصم کے مطابق بیوٹی سیلونز میں بار بار استعمال ہونے والے اوزار سے یہ بیماری بڑھتی جا رہی ہے۔

اس بیماری کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے بیوٹی سیلونز کو رجسٹرڈ کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ بیوٹی سیلونز میں ایک اوزار جیسے بلیڈ، ناخن ترشنے والے آلات کو بار بار استعمال کرنے سے یہ صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں ایڈز کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، رپورٹ 3 ہفتے میں طلب

دوسری جانب سیلون مالکان نے حکومتی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پارلرز میں صفائی کا نظام مزید بہتر بنائیں گے۔

سیلون مالکان کا ماننا تھا کہ سیلونز میں یہ اوزار صاف اور نئے ہونے چایٕے۔

انتظامیہ کے مطابق بیوٹی سیلونز کی رجسٹریشن کی آخری تاریخ 30 جون ہے اور یکم جولائی سے کریک ڈاون شروع ہو جاۓ گا۔