پاکستان میں بچی گود لینے والی برطانوی خاتون کو ویزا جاری

اپ ڈیٹ 25 جون 2019

ای میل

ناورے کی شہری گزشتہ 20 برس سے برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں—فائل فوٹو: ڈان نیوز
ناورے کی شہری گزشتہ 20 برس سے برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں—فائل فوٹو: ڈان نیوز

برطانیہ نے پاکستان آکر بچی کو گود لینے والی نارویجین خاتون کو ویزا جاری کردیا۔

دی گارجین کے مطابق برطانیہ نے نینا صالح کو تین مرتبہ ویزا دینے سے انکار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: والدین کی وہ غلطی جو بچوں کی زندگیاں خراب کررہی ہے

واضح رہے کہ ناورے کی شہری گزشتہ 20 برس سے برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں جنہیں دیگر برطانونی شہریوں کی طرح تمام شہری حقوق حاصل ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق نینا صالح نے برطانیہ میں متعلقہ حکام کو بچی گود لینے سے متعلق تمام قانونی امور میں باخبر رکھا تھا اور انتہائی طویل اور دقیق تجربہ رہا۔

رپورٹ کے مطابق جب نینا صالح نے صوفیہ نامی بچی کو گود لیا اور برطانیہ واپسی کی تیار کی تو انہیں روک دیا گیا۔

مزیدپڑھیں: نومولود بچے اور ماں سے ملنے جائیں تو ان اصولوں کو ضرور یاد رکھیں

برطانونی نشریاتی ادارے کے مطابق نینا صالح کو ویزا جاری نہ کرنے سے متعلق رپورٹ میڈیا پر نشر ہونے کے 48 گھنٹے بعد ہی برطانونی حکام نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔

نینا صالح کو مطلع کیا گیا کہ ہوم آفس نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی اور وہ اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ویزا جاری کررہے ہیں۔

کراچی سے عالمی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ برطانیہ واپسی کی ساری امیدیں دم توڑ گئیں تھی کیونکہ وہ گزشتہ 4 ماہ سے ویزا کے حصول کے لیے کوشاں تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’میڈیا کے دباؤ میں آکر برطانوی حکام کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا، رواں برس فروری سے ہوم آفس نے جواب دینا بند کردیا تھا اور اب بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کے حقوق کے لیے آزاد کمیشن کی ضرورت

میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے مابین بچے گود لینے کا معاہدہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر ابتدائی طور پر انہیں پاکستان سے بچی گود لینے پر ویزا جاری نہیں کیا گیا۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 25 جون 2019 کو شائع ہوئی