بدعنوانی کیس: پی ٹی آئی رہنما سبطین خان کا مزید 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اپ ڈیٹ 25 جون 2019

ای میل

نیب نے سابق وزیر جنگلات کو بدعنوانی کیس میں گرفتار کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
نیب نے سابق وزیر جنگلات کو بدعنوانی کیس میں گرفتار کیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

لاہور کی احتساب عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن صوبائی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر جنگلات سبطین خان کو مزید 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

احتساب عدالت کے جج چوہدری امیر محمد خان نے سابق صوبائی وزیر سبطین خان کے مزید جسمانی ریمانڈ سے متعلق نیب کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران جج نے استفسار کیا کہ کیا نیب بتائے اب ان کو جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہے، 10 دن کے جسمانی ریمانڈ میں 7 دن سبطین خان پنجاب اسمبلی میں رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: بد عنوانی کیس: پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ بطور وزیر سبطین خان کا جرم کیا ہے جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ پنجاب منرلز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین رہے اور ارتھ ریسورسز کمپنی کو خام لوہا نکالنے کا ٹھیکہ دیا جبکہ اس کمپنی کے مالک ارشد وحید امریکا میں مفرور ہیں، جس پر پنجاب منرلز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی لیز کہاں ہے؟

عدالتی استفسار پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ لیز کی دستاویزات ابھی موجود نہیں ہیں، پنجاب منرلز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا مشترکہ منصوبہ تیار کرنے کا اختیار نہیں تھا، ارشد وحید نے 23 مارچ 2007 کو سبطین خان کو لوہا نکالنے کیلئے مشترکہ منصوبے کی درخواست دی۔

سماعت کے دوران نیب وکیل نے بتایا کہ ملزم سبطین خان نے اختیارات سے تجاوز کیا، ملزم سے تفتیش مکمل کرنے کے لیے ان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔

نیب وکیل کے دلائل کے بعد ملزم سبطین خان کے وکیل نے دلائل دیے اور بتایا کہ سابق وزیر نے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا اور تمام اقدامات قانون کے مطابق کیے گئے، نیب نے جو دستاویزات سبطین خان سے حاصل کرنے ہیں وہ پہلے ہی نیب کے پاس ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے وزیر جنگلات سبطین خان کرپشن کے الزام میں گرفتار

ملزم کے وکیل نے کہا کہ جس دن نیب نے گرفتار کیا اسی دن سبطین خان نے وزارت سے استعفی دے دیا تھا، جبکہ نیب نے ان کے موکل سے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کرنا، نیب کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت بھی نہیں ہے۔

تاہم بعدازاں عدالت نے تحریک انصاف کے ایم پی اے سبطین خان کو مزید 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے 3 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سبطین خان کی گرفتاری

خیال رہے کہ 14 جون کو نیب لاہور نے اس وقت کے وزیر جنگلات پنجاب سبطین خان کو کرپشن کے الزام کی انکوائری کے دوران گرفتار کیا تھا۔

نیب لاہور نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ ایک کارروائی کے دوران سابق صوبائی وزیر برائے کان کنی و معدنیات ملزم محمد سبطین خان کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سبطین خان پر چنیوٹ اور راجوہ میں اربوں روپے مالیت کے 500 میٹرک ٹن خام فولاد کا غیر قانونی ٹھیکہ من پسند کمپنی کو دینے کا الزام ہے۔

نیب لاہور نے کہا تھا کہ ملزم کی جانب سے جولائی 2007 میں 'میسرز ارتھ ریسورس پرائیویٹ لمیٹڈ' نامی کمپنی کو ٹھیکہ فراہم کرنے کے غیر قانونی احکامات جاری کیے گئے اور ملزم کی دیگر شریک ملزمان سے ملی بھگت سے کمپنی کو ٹھیکہ مروجہ قوانین سے انحراف کرتے ہوئے فراہم کیا گیا۔'

بعد ازاں کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے والے پی ٹی آئی کے وزیر سبطین خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔