1990 کے کیس میں کشمیری اخبار کے مدیر گرفتار

اپ ڈیٹ 25 جون 2019

ای میل

غلام جیلانی قادری کو عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد رہا کر دیا گیا — فوٹو/رائٹرز
غلام جیلانی قادری کو عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد رہا کر دیا گیا — فوٹو/رائٹرز

مقبوضہ کشمیر کی پولیس نے بڑے پیمانے پر پڑھے جانے والے اخبار کے مدیر کو دہائیوں پرانے کیس میں ان کی رہائش گاہ پر آدھی رات کو چھاپہ مار کر گرفتار کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق روزنامہ اردو اخبار 'آفاق' کے 62 سالہ مدیر غلام جیلانی قادری کو پولیس نے سری نگر میں ان کی رہائش گاہ پر آدھی رات کو چھاپہ مار کر گرفتار کیا۔

ان کے بھائی محمد معرفت قادری کا کہنا ہے کہ 'پولیس نے ہمیں ہراساں کیا ہے، 1993 کے وارنٹ گرفتاری پر آج کیوں عمل کیا گیا اور صرف ان ہی کے خلاف کیوں؟'۔

مزید پڑھیں: پلوامہ واقعے کے بعد بھارت میں صحافی سمیت کشمیری نوجوانوں پر حملے

بعد ازاں غلام جیلانی قادری کو عدالت میں پیش کیے جانے پر ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

1990 کے کیس کے مطابق غلام جیلانی قادری ان 9 صحافیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے کشمیر میں بھارتی حکمرانی کے خلاف لڑنے والے گروہ کا بیان شائع کیا تھا۔

ان کے خلاف 1993 میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے جس پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا۔

معرفت قادری کا کہنا ہے کہ 'غلام قادر جیلانی نے وارنٹ جاری ہونے کے بعد متعدد بار تھانے کے چکر بھی لگائے تھے، 2017 میں انہوں نے اپنا پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے بھی تھانے کا رخ کیا تھا'۔

رات گئے ان کی گرفتاری کے حوالے سے سوال کے جواب میں سری نگر کے پولیس سربراہ حسیب مغل کا کہنا تھا کہ 'پولیس دن میں مصروف تھی'۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: مقتول صحافی شجاعت بخاری کی نماز جنازہ ادا

کشمیر یونین آف ورکنگ جرنلسٹا نے ان کی گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ یہ صحافت پر قدغن لگانے کی سازش ہے۔

اپنے بیان میں یونین نے کہا کہ 'غلام قادر جیلانی روزانہ اپنے دفتر آتے ہیں اور رات دیر ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی'۔

خیال رہے کہ بھارت دنیا میں صحافیوں کے لیے بدترین ملک مانا جاتا ہے۔

بھارت کا انٹرنیشنل رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے 'پریس فریڈم انڈیکس' میں 180 ممالک میں سے 138واں نمبر ہے اور اس کی اہم وجہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بتایا جاتا ہے۔